تلنگانہ

بولارم اسلحہ مرکز سے ہتھیاروں کی چوری، سابق فوجی ملازم پر سازش کا الزام

پولیس کے مطابق مالیش کو 11 ستمبر کو گرفتار کیا گیا اور اس کے قبضے سے چوری کیے گئے ہتھیار برآمد کیے گئے، جنہیں مبینہ طور پر گنّی کے تھیلوں میں چھپا کر رکھا گیا تھا۔ پولیس نے واضح کیا کہ اس معاملے میں دہشت گردی کا کوئی زاویہ سامنے نہیں آیا ہے۔

حیدرآباد: ملکاجگیری کی پولیس کمشنر سمتھی آئی پی ایس نے بتایا کہ سابق فوجی ملازم مالیش نے مبینہ طور پر سکیورٹی خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بولارم اسلحہ مرکز سے آتشیں ہتھیار چوری کرنے کی سازش تیار کی تھی۔

پولیس کے مطابق مالیش کو 11 ستمبر کو گرفتار کیا گیا اور اس کے قبضے سے چوری کیے گئے ہتھیار برآمد کیے گئے، جنہیں مبینہ طور پر گنّی کے تھیلوں میں چھپا کر رکھا گیا تھا۔ پولیس نے واضح کیا کہ اس معاملے میں دہشت گردی کا کوئی زاویہ سامنے نہیں آیا ہے۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق مالیش نے چوری کو انجام دینے کے لیے اپنے سابق ساتھیوں پروین، ونود اور شیشو کی مبینہ طور پر مدد حاصل کی۔ پولیس کا الزام ہے کہ مالیش نے اسلحہ مرکز میں داخل ہونے کے لیے تالے توڑے، جبکہ ونود کو سی سی ٹی وی نظام اور سکیورٹی انتظامات سے واقفیت تھی، جس سے اسے مبینہ طور پر واردات میں مدد ملی۔

پولیس کے مطابق ونود کو اس کے مبینہ کردار کے عوض ایک لاکھ روپے دیے گئے تھے۔

تحقیقاتی ٹیم نے بتایا کہ کیس میں ڈیجیٹل اور دیگر شواہد بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ تفتیش کے دوران بربل شاہ، ملیکارجن اور نرنجن سے مبینہ روابط بھی سامنے آئے ہیں، جن کے کردار کی جانچ کی جا رہی ہے۔

پولیس واقعے کی مکمل کڑی جوڑنے، چوری میں ملوث تمام افراد کا پتہ لگانے اور اسلحہ مرکز کی سکیورٹی میں موجود خامیوں کی تفصیلات جاننے کے لیے مزید تحقیقات کر رہی ہے۔