دیگر ممالک

آسٹریلیا میں اسقاط حمل کی ادویات کی پابندیوں میں نرمی

آسٹریلیا میں صرف 10 فیصد جی پی اور 30 فیصد فارماسسٹ ایم ایس-2 اسٹیپ دینے کے لئے خاص طور پررجسٹرڈ تھے، جس سے دوا تک رسائی کافی محدود ہوگئی۔

کینبرا: آسٹریلیا میں میڈیکل ریگولیٹر کی جانب سے اسقاط حمل کی ادویات پر پابندیوں میں نرمی کے بعد ملک میں طبی اسقاط حمل کو مزید قابل رسائی بنایا جا سکے گا۔

متعلقہ خبریں
انوشکا نے ویراٹ کو گلے لگایا۔ تصویر وائرل
بین اسٹوکس نے ایشز کا بڑا ریکارڈ اپنے نام کرلیا
آسٹریلوی حکومت نازی علامتوں پر پابندی عائد کرے گی
آرٹیفیشل انٹلیجنس نے ڈبلیو ٹی سی فائنل کی پیشن گوئی کردی
اسٹیو اسمتھ کی سنچری سے ٹسٹ کرکٹ کی ریکارڈ بک بکھرگئی

میڈیکل گڈز ایڈمنسٹریشن (ٹی جی اے) نے منگل کو اعلان کیا کہ تبدیلیوں کے تحت ایم ایس-2 اسٹیپ کو تقسیم کرنے والے پرسکرائبرزاور کیمسٹوں کو اب ایسا کرنے کے لیے خصوصی سرٹیفیکیشن یا رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوگی اور اب وہ حمل کے نو ہفتوں تک کے حمل کو ختم کرنے کے لئے استعمال کی جانے والی ادویات تمام جنرل پریکٹیشنرز (جے پی) کے ذریعہ تجویز کی جاسکے گی۔

اس سے پہلے، آسٹریلیا میں صرف 10 فیصد جی پی اور 30 ​​فیصد فارماسسٹ ایم ایس-2 اسٹیپ دینے کے لئے خاص طور پررجسٹرڈ تھے، جس سے دوا تک رسائی کافی محدود ہوگئی۔ رائل آسٹریلین کالج آف جی پی کے ایک نمائندہ گروپ نے کہا کہ ایم ایس-2 اسٹیپ کے پرسکرائبرز کی تعداد بڑھانے میں وقت لگے گا۔