شمالی بھارت
ٹرینڈنگ

بھوج شالہ۔ کمال مولا مسجد کامپلکس کا سروے شروع

محکمہ آثارِ قدیمہ (اے ایس آئی) کی ٹیم نے جمعہ کے دن مدھیہ پردیش کے قبائلی ضلع دھار میں واقع متنازعہ بھوج شالہ/ کمال مولا مسجد کامپلکس کا سروے شروع کردیا۔

دھار: محکمہ آثارِ قدیمہ (اے ایس آئی) کی ٹیم نے جمعہ کے دن مدھیہ پردیش کے قبائلی ضلع دھار میں واقع متنازعہ بھوج شالہ/ کمال مولا مسجد کامپلکس کا سروے شروع کردیا۔

متعلقہ خبریں
گیان واپی سروے، آثارِ قدیمہ کو مزید مہلت
کمال مولامسجد۔ بھوج شالہ سروے پرمسلم تنظیم کا اعتراض
بہار میں معاشی اور ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کا آغاز

12 سے زائد ارکان پر مشتمل اے ایس آئی ٹیم آج صبح کامپلکس پہنچی۔ اس کے ساتھ مقامی سینئر پولیس اور ضلع عہدیدار موجود تھے۔

دھار کے سپرنٹنڈنٹ پولیس منوج کمار سنگھ نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ بھوج شالہ میں سروے شروع ہوچکا ہے۔ ہم نے اے ایس آئی ٹیم کو درکار امداد دی ہے۔ سیکوریٹی کے خاطرخواہ انتظامات کئے گئے۔ ٹاؤن میں امن قائم ہے۔

عینی شاہدین نے بتایاکہ بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 11 مارچ کو اے ایس آئی کو ہدایت دی تھی کہ وہ اندرون 6 ہفتے بھوج شالہ کامپلکس کا سائنٹفک سروے کرے۔

عہدوسطیٰ کی اس تاریخی عمارت کو ہندو‘ واگ دیوی (سرسوتی) کا مندر اور مسلمان اسے کمال مولا مسجد مانتے ہیں۔

اے ایس آئی کے 7 اپریل 2003 کے احکام کی رو سے ہندوؤں کو ہر منگل کو بھوج شالہ کے اندر پوجا کی اجازت ہے اور مسلمانوں کو ہر جمعہ کو نماز ادا کرنے دیا جاتا ہے۔