تہواروں کے لیے آنے والی 12 کروڑ کی چینی آتش بازی پکڑی گئی، ڈی آر آئی کا بڑا ایکشن
ڈی آر آئی کے مطابق، ان کھیپوں میں اسٹیشنری اشیا، طبی دستانے، پلاسٹک کلپس، ہیئر بینڈز، اسٹوریج الماریاں، جوتوں کے ریک اور دیگر اشیا ظاہر کی گئی تھیں، جبکہ اصل میں ان میں آتش بازی کا سامان موجود تھا
حیدرآباد : ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی) کے حیدرآباد زونل یونٹ نے چنئی بندرگاہ پر تقریباً 12 کروڑ روپے مالیت کی چینی ساختہ آتش بازی ضبط کی ہے۔ الزام ہے کہ اسے مختلف اسٹیشنری اور دیگر اشیا کے نام پر غلط تفصیلات درج کرکے غیر قانونی طور پر درآمد کیا گیا تھا۔
ایجنسی نے منگل کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ مخصوص خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ڈی آر آئی افسران نے بندرگاہ پر مشتبہ کنٹینروں کی مربوط جانچ کی۔ اس دوران ظاہر کردہ سامان کے کارٹنوں کے پیچھے بڑی مقدار میں چھپائی گئی چینی ساختہ آتش بازی برآمد ہوئی۔
ڈی آر آئی کے مطابق، ان کھیپوں میں اسٹیشنری اشیا، طبی دستانے، پلاسٹک کلپس، ہیئر بینڈز، اسٹوریج الماریاں، جوتوں کے ریک اور دیگر اشیا ظاہر کی گئی تھیں، جبکہ اصل میں ان میں آتش بازی کا سامان موجود تھا۔
غیر ملکی تجارتی پالیسی کے تحت پٹاخوں اور آتش بازی کی درآمد پر پابندیاں عائد ہیں اور اس کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) اور ایکسپلوزِوز رولز، 2008 کے تحت پیٹرولیم اینڈ ایکسپلوزِوز سیفٹی آرگنائزیشن (پی ای ایس او) سے ضروری اجازت نامے حاصل کرنا لازمی ہے۔
چونکہ یہ کھیپیں ضروری لائسنس کے بغیر درآمد کی گئی تھیں اور ان میں غلط تفصیلات ظاہر کرنے اور سامان چھپانے کا معاملہ سامنے آیا، اس لیے آتش بازی کو کسٹمز ایکٹ، 1962 کی متعلقہ دفعات کے تحت ضبط کر لیا گیا۔
ڈی آر آئی نے کہا کہ یہ ضبطی خفیہ معلومات کی بنیاد پر مربوط کارروائیوں کے ذریعے ممنوعہ اور محدود اشیا کی اسمگلنگ کے خلاف اس کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد منظم اسمگلنگ نیٹ ورکس کو توڑنا اور عوامی تحفظ اور قومی اقتصادی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔