مہاراشٹرا

غربت یا سنگ دلی؟ والدین نے ڈیڑھ لاکھ میں بچہ فروخت کردیا

اپنے 13 ماہ کے بیٹےکو ایک خاتون کےہاتھوں دیڑھ لاکھ روپے میں فروخت کر دیا

ممبئی : دھارا وی میں غربت سے پریشان ایک جوڑے نے ایک ۱۳؍ماہ کےبچے کو محض دیڑھ لاکھ کے عوض فروخت کردیا۔ اپنے جرم کو چھپانے کے لئے والدین نے بچے کی سائن ہسپتال میں موت واقع ہو جانے کا جھوٹا ڈرامہ بھی رچایا۔ تاہم، بچے کے ماموں کی بروقت شک اور ہوشیاری کی وجہ سے اس دل دہلا دینے والے واقعے کا پردہ فاش ہو گیا۔

پولیس میں درج ایف آئی آر کے مطابق، گوڑے گاؤں کے رہنے والے 39 سالہ سیکیورٹی گارڈ سنی سنگھ (بچے کے ماموں) نے بتایا کہ 9 اگست کو ان کی بہن رولی (33) نے اپنی والدہ کو فون کر کے دعویٰ کیا کہ بارش کے دوران اس کا پاؤں پھسل گیا تھا، جس کی وجہ سے معصوم بچہ اس کی گود سے نیچے گر گیا اور اس کے سر پر شدید چوٹ آئی۔

اس نے دعویٰ کیا کہ بچے کو علاج کے لئے سائن ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ سنی سنگھ جب اطلاع ملتے ہی فوری طور پر سائن ہسپتال پہنچے تو وہاں نہ تو بہن رولی موجود تھی اور نہ ہی اس کا شوہر سندیپ، جبکہ دونوں کے موبائل فون بھی مسلسل بند آرہے تھے۔

بعد میں سندیپ (جو ایک زیورات کی دکان میں کاریگر کے طور پر کام کرتا ہے) نے سنی سنگھ کو فون کر کے اپنے دھاراوی واقع رہائش گاہ پر بلایا اور بتایا کہ بچے کی موت ہو گئی ہے اور لاش پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال میں رکھی گئی ہے۔ سنی سنگھ کو ان کے بیانات اور روئیے پر گہرا شک ہوا۔

اگلے دن جب انہوں نے اپنی بہن اور بہنوئی سے سخت اور تفصیلی پوچھ گچھ کی تو رولی ٹوٹ گئی اور اس نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہوں نے 2 اگست کو ہی اپنے 13 ماہ کے بیٹےکو ایک خاتون کےہاتھوں دیڑھ لاکھ روپے میں فروخت کر دیا تھا۔ سچائی سامنے آتے ہی بچے کے ماموں سنی سنگھ دونوں میاں بیوی کو زبردستی دھاراوی پولیس اسٹیشن لے گئے اور ان کے خلاف تحریری شکایت درج کروائی۔

پولیس حکام کے مطابق حراست میں لی گئی درمیانی خاتون سے سخت پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ بچوں کی خریدو فروخت میں ملوث کسی ممکنہ بین الریاستی ریکیٹ کا پردہ فاش کیا جا سکے۔

پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا اس سے قبل بھی اس گروہ نے اس علاقے میں ایسی کسی واردات کو انجام دیا ہے یا نہیں۔ سینئر پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ معصوم بچے کی بازیابی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور مختلف مقامات پر سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج کی مدد سے خریدار خاتون کا سراغ لگایا جا رہا ہے، جس کے بعد جلد ہی بچے کو محفوظ طریقے سے بازیاب کروا لیا جائے گا۔

دھاراوی پولیس نے اس معاملے میں جوڑے کے خلاف جُووینائل جسٹس (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) ایکٹ اور بھارتیہ نیا ئے سنہیتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے سودے بازی میں شامل ایک درمیانی خاتون (Middlewoman) کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ خریدار خاتون اور غائب کیے گئے معصوم بچے کی تلاش کے لئے بڑے پیمانے پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔