شمالی بھارت

کمپنی کے ملازم کا اغوا اور جبری وصولی کیس، 19 ملزمین میں پولیس کے سینئرعہدیدار بھی شامل

سی آئی ڈی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ضلع کچ کے گاندھی دھام کے ساکن پرماندھ سیروانی نے دسمبر 2015ء میں کمپنی کے دو مالکین اور دیگر 11 افراد کے خلاف اغوا اور جبری وصولی کی شکایت درج کرائی تھی۔

بھج: گجرات کے ضلع کچ میں ایک کمپنی کے ملازم کے اغوا اور جبری وصولی کیس کے سلسلہ میں دو سپرنٹنڈنٹس آف پولیس اور دیگر 3 سینئر پولیس ملازمین سمیت 19 افراد کے خلاف ایک معاملہ درج کرلیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
دوستوں کی مدد سے اپنے اغوا کا ڈرامہ رچنے والا شخص گرفتار
نابالغ لڑکی کا اغواء اور عصمت ریزی کا واقعہ، ملزم کو 20 سال کی سزاء
اے پی میں 8دن کی نوزائیدہ کے اغوا کامعاملہ حل

پولیس نے آج یہ بات بتائی اور کہا کہ سی آئی ڈی نے جمعرات کے روز دونوں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، 3 ڈپٹی ایس پیز اور ایک سب انسپکٹر کے علاوہ الیکٹرو تھرم لمیٹڈ کے مالکین کے خلاف ایک ایف آ ئی آر درج کرلی۔

سپریم کورٹ نے تقریباً ایک ماہ پہلے گجرات ہائی کورٹ کے حکم پر جاری کردہ حکم ِ التوا برخاست کردیا تھا، جس کے ذریعہ تحقیقاتی ایجنسی کو ایف آ ئی آر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

سی آئی ڈی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ضلع کچ کے گاندھی دھام کے ساکن پرماندھ سیروانی نے دسمبر 2015ء میں کمپنی کے دو مالکین اور دیگر 11 افراد کے خلاف اغوا اور جبری وصولی کی شکایت درج کرائی تھی۔

تحقیقاتی ایجنسی نے اپنے بیان میں ملزم پولیس عہدیداروں کے رول کا خلاصہ نہیں کیا اور کہا کہ ایسا کرنے سے تحقیقات متاثر ہوں گی۔ شکایت گزار 2011ء میں الکٹرو تھرم لمیٹڈ کمپنی میں کام کرتا تھا۔ بعد ازاں اس نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا تھا۔

 کمپنی کے مالکین شیلیش بھنڈاری اور انو راگ بھنڈاری نے اس کے استعفیٰ کو بار بار مسترد کردیا تھا۔ بھنڈاریوں پر الزام ہے کہ انھوں نے شکایت گزار کا اغوا کرلیاتھا کیونکہ اس نے مستعفی ہونے کی ناکام کوشش کے بعد فرم کا ڈائرکٹر بنانے کی پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔