حیدرآباد میں پرانی جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے پر تشویش
تلنگانہ میں جائیدادوں کو پروہیبٹڈ لسٹ میں شامل کیے جانے کے معاملے پر متاثرہ شہریوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ متعدد افراد کا کہنا ہے کہ برسوں پہلے تمام سرکاری منظوریوں کے ساتھ تعمیر کی گئی اپارٹمنٹس اور رجسٹرڈ پلاٹس کو اب سرکاری زمین قرار دے کر پروہیبٹڈ لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث رجسٹری کا عمل روک دیا گیا ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں جائیدادوں کو پروہیبٹڈ لسٹ میں شامل کیے جانے کے معاملے پر متاثرہ شہریوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ متعدد افراد کا کہنا ہے کہ برسوں پہلے تمام سرکاری منظوریوں کے ساتھ تعمیر کی گئی اپارٹمنٹس اور رجسٹرڈ پلاٹس کو اب سرکاری زمین قرار دے کر پروہیبٹڈ لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث رجسٹری کا عمل روک دیا گیا ہے۔
متاثرین کے مطابق، کئی ایسی رہائشی عمارتیں جو حیدرآباد شہر کی حدود میں تمام قانونی اجازت ناموں کے ساتھ تعمیر کی گئی تھیں، اب رجسٹریشن کے وقت تنازع کا شکار ہو رہی ہیں۔
اسی سلسلے میں ایک متاثرہ شخص سیتارامیا نے بتایا کہ انہوں نے 2004 میں دل سکھ نگر کے علاقے میں ایس بی ایچ سوسائٹی کی جانب سے ملازمین کو الاٹ کیے گئے 327 مربع گز کے پلاٹ کو خریدا تھا۔ بعد ازاں تمام سرکاری منظوریوں کے بعد 2008 میں اس پر اپارٹمنٹ تعمیر کیا گیا۔
ان کے مطابق، جب حال ہی میں وہ اپارٹمنٹ کا ایک فلیٹ فروخت کرنے کے لیے سب رجسٹرار دفتر پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا پلاٹ اب پروہیبٹڈ لسٹ میں شامل ہے، اس لیے رجسٹریشن ممکن نہیں۔
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ صرف یہی ایک معاملہ نہیں، بلکہ حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جہاں کئی پرانی اپارٹمنٹس اور پلاٹس کو اچانک پروہیبٹڈ لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایچ ایم ڈی اے (HMDA) اور سابق ہُڈا (HUDA) کے وہ پلاٹس بھی، جن کی رجسٹری تقریباً 15 سال پہلے قانونی طور پر ہو چکی تھی، اب پروہیبٹڈ لسٹ میں شامل کیے جا رہے ہیں۔
متاثرین نے سوال اٹھایا ہے کہ جب انہی جائیدادوں کو ماضی میں حکومت کے مختلف محکموں نے تمام قانونی منظوریوں کے بعد منظور کیا تھا، تو اب انہیں سرکاری زمین قرار دے کر رجسٹریشن سے کیوں روکا جا رہا ہے۔
متاثرہ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، حقیقی مالکان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور جن جائیدادوں کو قانونی طور پر تمام اجازتیں حاصل تھیں، ان کی رجسٹریشن میں حائل رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں۔
نوٹ: یہ الزامات متاثرہ افراد کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔ اس معاملے پر متعلقہ سرکاری محکموں کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔