نیٹ پیپر لیک معاملے میں کلیدی ملزم کو سی بی آئی کی کلین چٹ
سی بی آئی نے سنجیو مکھیہ کے خلاف نیٹ سوالیہ پرچہ لیک اور اس کی تقسیم میں مبینہ کردار کے سلسلے میں مقدمہ درج کیا تھا۔ تاہم، 45 دیگر ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے کے بعد تحقیقاتی ایجنسی نے مبینہ طور پر کہا کہ تمام ملزمان کی شناخت کرلی گئی ہے، لیکن سنجیو مکھیہ کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔
نئی دہلی: مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے 2024 میں بہار میں نیٹ (NEET) سوالیہ پرچہ چوری کرکے تقسیم کرنے کے معاملے میں اہم ملزم سمجھے جانے والے سنجیو کمار عرف سنجیو مکھیہ کو مبینہ طور پر کلین چٹ دے دی ہے۔
سی بی آئی نے سنجیو مکھیہ کے خلاف نیٹ سوالیہ پرچہ لیک اور اس کی تقسیم میں مبینہ کردار کے سلسلے میں مقدمہ درج کیا تھا۔ تاہم، 45 دیگر ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے کے بعد تحقیقاتی ایجنسی نے مبینہ طور پر کہا کہ تمام ملزمان کی شناخت کرلی گئی ہے، لیکن سنجیو مکھیہ کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔
اس پیش رفت کے بعد طلبہ میں تشویش اور سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف سخت کارروائی کی بات کرتی ہے، تو دوسری جانب ایک اہم ملزم کو کلین چٹ دی جارہی ہے۔ ایسے میں بی جے پی حکومت پر کس طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے؟
نیٹ پیپر لیک معاملے نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور سیاسی ردعمل کو جنم دیا تھا۔ طلبہ اور اپوزیشن جماعتوں نے امتحانی نظام کی شفافیت کو یقینی بنانے اور پیپر لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔