حیدرآباد

تلنگانہ میں کابینہ کی توسیع کیلئے کانگریس ہائی کمان نے ہری جھنڈی دکھادی

 ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا، پی سی سی صدر اور ایم ایل سی مہیش کمار گوڑ کے ساتھ ساتھ نئی انچارج میناکشی نٹراجن سے مشاورت کے بعد اے آئی سی سی نے ان ناموں کو حتمی شکل دی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں کابینہ کی توسیع کے لئے کانگریس ہائی کمان نے ہری جھنڈی دکھادی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، حکومت نے نئے تلگوسال اُگادی تہوار سے پہلے کابینہ کی توسیع کرتے ہوئے 3 اپریل کو نئے وزراء کی حلف برداری کروانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ریونت ریڈی کابینہ کی یہ پہلی توسیع ہوگی۔

متعلقہ خبریں
ٹی پی سی سی کے نئے صدر کا انتخاب ہائی کمان کرے گی
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر

سنئی کابینہ میں دو بی سی، ایک ایس سی اور ایک ریڈی طبقہ کے افراد کو موقع دیئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بی سی طبقہ میں سری ہری مدیراج اور حکومت کے وہپ آدی سرینواس، ایس سی طبقہ میں چنّور کے ایم ایل اے ویویک وینکٹ سوامی، اور اگر اقلیتوں کو موقع دیا گیا توایک مسلم چہرہ کو وزیربنایاجاسکتا ہے۔ ریڈی طبقہ سے کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی کا نام زیر غور ہے۔

 ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا، پی سی سی صدر اور ایم ایل سی مہیش کمار گوڑ کے ساتھ ساتھ نئی انچارج میناکشی نٹراجن سے مشاورت کے بعد اے آئی سی سی نے ان ناموں کو حتمی شکل دی ہے۔

دوسری طرف، کابینہ میں اپنی جگہ یقینی سمجھنے والے کچھ دیگر سینئر رہنما بھی اپنی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔ منچریال کے ایم ایل اے پریم ساگر راؤ، آلیر کے ایم ایل اے بیرلا ایلیا، ابراہیم پٹنم کے ایم ایل اے مال ریڈی رنگا ریڈی، اور دیوراکونڈہ کے ایم ایل اے بلو نائیک بھی وزیر بننے کی امید کر رہے ہیں۔

اُگادی سے پہلے کابینہ کی توسیع یقینی سمجھی جا رہی ہے، جس کے پیش نظر یہ سوال دلچسپی کا باعث بن گیا ہے کہ وزارت کا تاج کس کے سر سجے گا۔ یہ بے چینی نہ صرف کانگریس حلقوں میں بلکہ ایم ایل ایز کے حامیوں میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔