حیدرآباد

مرکزی او بی سی فہرست میں تلنگانہ کی 40 برادریوں کی شمولیت پر کمیشن سرگرم

انہوں نے کہا کہ تاخیر کی وجہ سے ان 40 برادریوں کے افراد مرکزی حکومت کے تعلیمی اداروں میں داخلوں اور مرکزی حکومت کی ملازمتوں میں او بی سی سے متعلق مواقع سے محروم ہو رہے ہیں

حیدرآباد :   تلنگانہ پسماندہ طبقات کمیشن کے چیئرمین جی نرنجن نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ تلنگانہ کی 40 برادریوں کو مرکزی دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) فہرست میں شامل کرنے کے عمل میں تیزی لائی جائے۔ انہوں نے اس معاملے میں طویل تاخیر اور آئندہ مردم شماری 2027 کے پیش نظر فوری کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں نرنجن نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی 13 اپریل 2026 کو ان کی توجہ میں لایا جا چکا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے پیش کی گئی درخواست کے بعد مرکزی وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات نے متعلقہ برادریوں کی تفصیلات طلب کی تھیں، جس کے بعد تلنگانہ بی سی کمیشن نے 18 جولائی 2026 کو 40 برادریوں کی فہرست مرکز کو بھیج دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وزارت نے 3 اگست کو ایک خط کے ذریعے بتایا کہ مرکزی او بی سی فہرست میں برادریوں کو شامل کرنے یا خارج کرنے کا عمل آئین کے آرٹیکل 342اے کے تحت طے ہوتا ہے۔

نرنجن نے نشاندہی کی کہ ان میں سے کچھ برادریوں کو 2008 میں ہی تلنگانہ کی ریاستی بی سی فہرست میں شامل کر لیا گیا تھا، جبکہ دیگر برادریاں اس وقت سے مرکزی او بی سی فہرست میں شمولیت کی منتظر ہیں۔ قومی کمیشن برائے پسماندہ طبقات (این سی بی سی) نے بھی اس معاملے پر دسمبر 2021 اور ستمبر 2023 میں سماعتیں کی تھیں، لیکن ابھی تک معاملہ حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاخیر کی وجہ سے ان 40 برادریوں کے افراد مرکزی حکومت کے تعلیمی اداروں میں داخلوں اور مرکزی حکومت کی ملازمتوں میں او بی سی سے متعلق مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔

نرنجن نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور شمولیت کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرانے کو یقینی بنائیں، خصوصاً مردم شماری 2027 کے پیش نظر، تاکہ متعلقہ برادریوں کو سماجی انصاف اور مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔