گھر بنانے کیلئے جمع کیے 5 لاکھ روپے زمین میں دفن کیے، ایک سال بعد نکالے تو دیمک نے نوٹ چٹ کر دیے (ویڈیو)
تھیلے میں رکھے 500 روپے کے بیشتر نوٹ دیمک کھا چکی تھی۔ کئی نوٹ مکمل طور پر خراب ہوچکے تھے اور بعض اتنے متاثر ہوئے کہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل ہوگئے۔
جئے پور: گھر بنانے کا خواب سجائے ایک غریب کسان نے اپنی زمین فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم محفوظ رکھنے کے لیے کھیت میں دفن کردی، لیکن ایک سال بعد جب رقم واپس نکالی تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ تقریباً 5 لاکھ روپے کی رقم دیمک کی نذر ہوچکی تھی اور زیادہ تر نوٹ ٹکڑوں میں تبدیل ہوچکے تھے۔
یہ واقعہ راجستھان کے بالوترا ضلع کے نیوائی گاؤں میں پیش آیا، جہاں منگی لال میگھوال نامی کسان نے پچپدرا کے قریب اپنا ایک پلاٹ فروخت کیا تھا۔ حاصل ہونے والی رقم سے وہ اپنی زمین پر گھر تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، لیکن گھر کی تعمیر فوری طور پر شروع نہ ہونے کے باعث اس نے رقم کو کچھ عرصے کے لیے محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا۔
کسان نے رقم کو پلاسٹک کے تھیلوں میں پیک کیا، اسے ایک ڈبے میں رکھا اور اپنے کھیت میں گڑھا کھود کر زمین کے اندر دفن کردیا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ محفوظ رکھنے کی کوشش میں اس کی زندگی بھر کی محنت کی جمع پونجی ہی خطرے میں پڑ جائے گی۔
جب کسان تقریباً ایک سال بعد رقم واپس لینے کے لیے مقررہ جگہ پہنچا تو وہاں رقم موجود نہیں تھی۔ اسے شبہ ہوا کہ شاید کسی نے رقم چرا لی ہے۔ پریشانی میں اس نے اپنے اہل خانہ کو بتایا، جس کے بعد بیوی اور بیٹے کے ساتھ مل کر تقریباً ساڑھے تین ایکڑ کے پورے کھیت میں رقم تلاش کی گئی، لیکن کہیں کچھ نہیں ملا۔
آخرکار خاندان نے یہ سمجھ کر امید چھوڑ دی کہ شاید رقم کسی کے ہاتھ لگ گئی ہے اور چوری ہوگئی ہے۔
ایک سال گزرنے کے بعد خاندان حسبِ معمول فصل کی تیاری میں مصروف ہوگیا۔ بارش کے بعد کھیت میں ہل چلایا گیا۔ اسی دوران مٹی سے ایک پلاسٹک کا تھیلا کچھ حصہ باہر نکلا، لیکن رات ہونے کی وجہ سے اس وقت وہ اسے شناخت نہیں کرسکے۔
اگلی صبح جب خاندان کھیت میں باڑ لگانے پہنچا تو انہیں وہ پلاسٹک کا تھیلا نظر آیا۔ تھیلا دیکھ کر خاندان کی خوشی کی انتہا نہ رہی، کیونکہ انہیں لگا کہ ان کی گم شدہ رقم دوبارہ مل گئی ہے۔
تھیلے میں رکھے 500 روپے کے بیشتر نوٹ دیمک کھا چکی تھی۔ کئی نوٹ مکمل طور پر خراب ہوچکے تھے اور بعض اتنے متاثر ہوئے کہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل ہوگئے۔
سان اور اس کے اہل خانہ کو امید تھی کہ شاید بینک خراب شدہ نوٹوں کے بدلے کچھ رقم واپس کردے۔ اسی امید میں وہ پچپدرا کی اسٹیٹ بینک آف انڈیا شاخ پہنچے۔
خاندان کے مطابق بینک حکام نے انہیں بتایا کہ دیمک سے بری طرح خراب اور تباہ شدہ نوٹوں کے بدلے رقم فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ بالوترا کی مرکزی شاخ بھی گئے، لیکن وہاں بھی انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
یوں گھر تعمیر کرنے کے لیے جمع کیے گئے تقریباً 5 لاکھ روپے کسان کی آنکھوں کے سامنے دیمک کی نذر ہوگئے۔ اب کسان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ برسوں کی محنت سے جمع کی گئی رقم، جو گھر بنانے کے خواب کے لیے رکھی گئی تھی، اس کا کوئی حصہ واپس مل سکے گا یا نہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ بڑی رقم کو گھر، کھیت یا زمین میں چھپا کر رکھنے کے بجائے محفوظ بینکنگ ذرائع میں رکھنا زیادہ محفوظ ہے، کیونکہ نقد رقم کو نمی، دیمک، آگ اور دیگر نقصانات سے بچانا مشکل ہوسکتا ہے۔