مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں معیاری تعلیم اور انتہائی کم فیس پر مختلف کورسیس میں داخلے ‘
یونیورسٹی کے فارغین ملک و بیرون ملک اہم عہدوں پر فائز'حسینی علم ڈگری کالج میں پروفیسر مصطفی علی سروری پروفیسر ذوالفقار، پروفیسر عبدالقدوس اور محمد حسام الدین ریاض کا خطاب
یونیورسٹی کے فارغین ملک و بیرون ملک اہم عہدوں پر فائز’حسینی علم ڈگری کالج میں پروفیسر مصطفی علی سروری پروفیسر ذوالفقار، پروفیسر عبدالقدوس اور محمد حسام الدین ریاض کا خطاب
حیدرآباد : پروفیسر محمد مصطفی علی سروری عہدیدار تعلقات عامہ و ممبر ایگزیکٹو کونسل اور رکن اکیڈمک کونسل مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی گچی باولی حیدراباد نے کہا کہ مولانا آزاد اردو یونیورسٹی اردو والوں کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے جہاں انتہائی کم فیس کے ساتھ طلبہ و طالبات مختلف کورسیس میں اعلی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں معاشی طور پر پسماندہ اور غریب طلبہ و طالبات کے لیے یو نیور سٹی کی تعلیم ایک نعمت سے کم نہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن حسینی علم حیدرآباد میں مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے فاصلاتی طرز تعلیم کے کورسیس کے بارے میں طالبات کو واقف کرواتے ہوئے کیا
پروفیسر مصطفی علی سروری نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے فارغین اج دنیا بھر میں انتہائی اہم عہدوں پر فائز ہیں انہوں نے ملک کے مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے معاشی طور پر کمزور طلبہ و طالبات کی مولانا آزاد اردو یونیورسٹی سے حاصل کی گئی تعلیم اور اس کے بعد انہیں بہترین روزگار کے مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی انہوں نے بتایا کہ موجودہ زمانے کے لحاظ سے لڑکے اور لڑکیوں کو ایس ایس سی انٹرمیڈیٹ اور ڈگری تک تعلیم حاصل کر کے خاموش نہیں ہو جانا چاہیے بلکہ مسابقتی امتحانات میں حصہ لے کر اپنے آپ کو ملک کا بہتر شہری ثابت کرنا چاہیے انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں اردو سے تعلیم حاصل کرنے کے بہت سارے مواقع ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اساتذہ اور پروفیسرز اپنے طلبہ و طالبات کو ان کورسیس کی اہمیت اور فیس کی انتہائی کم شرح سے واقف کروائیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر عین الحسن کی قیادت میں یونیورسٹی نے ترقی کے کئی منازل طے کیے ہیں پروفیسر عین الحسن نے پہلی بار حیدرآباد کے لوگوں کی خواہش پر حیدرآباد کے طلبہ و طالبات کے لیے یونیورسٹی کے تمام کورسز میں 10 فیصد کوٹہ بھی مقرر کیا ہے جو ایک انوکھا اور مثالی و لائق ستائش اقدام ہے
انہوں نے بتایا کہ ایم اے اردو’ ایم اے انگریزی’ ایم اے تاریخ ‘ایم بی اے’ بیچلر آف آرٹس ‘بیچلر آف سائنس، ڈپلوماان جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن، ڈپلوماان ان ٹیچ انگلش’ ایم اے ہندی’ ایم اے عربی’ ایم اے اسلامک اسٹڈیز’ بیچلر آف کامرس کے علاوہ اور دیگر کورسیس ہیں جس میں فیس انتہائی کم ہے ایم بی اے اور بی ایڈ کے لیے ان لائن درخواست فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ 25 اگست 2026 ء اور دیگر کورسیس میں داخلہ حاصل کرنے کی آخری تاریخ 14 -ستمبر 2026 ہے
انہوں نے بتایا کہ شہر حیدرآباد کے علاوہ مختلف اضلاع میں بھی اسٹڈی سنٹرز قائم ہیں جہاں پر طالبات اور طلبہ اپنے کورس کا انتخاب کرتے ہوئے امتحانات دے سکتے ہیں پروفیسر مولانا سید شاہ ذوالفقار محی الدین صدر شعبہ عربی نے کہا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے اب تک سینکڑوں طلبہ و طالبات فیضیاب ہو چکے ہیں انہوں نے بتایا کہ حسین علم ڈگری کالج میں بھی مولانا آزاد یونیورسٹی کا اسٹڈی سنٹر قائم ہے یہاں سے بھی فاصلاتی طرز تعلیم کے ذریعے طالبات اور خواتین استفادہ کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ مولانا ازاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی خواہش یہی ہے کہ عوام کا ایک بہت بڑا طبقہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو جائے انہوں نے خاص طور پر اردو والوں کو اس جانب متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ مومن کا رشتہ علم کے ساتھ ہے ہم کو اس رشتے کو مستحکم سے مستحکم بنانا چاہیے
جناب اعجاز علی قریشی ایڈوکیٹ صدر مانو المنائی اسوسی ایشن نے بتایا کہ یونیورسٹی میں 132 کورسیس ہیں کسی بھی کورس میں طالبات اور طلباء حصہ لے سکتے ہیں تعلیمی شعور بیداری کی غرض سے مانو المنائی اسوسی ایشن مختلف کالجس اور اسکولس میں طلباء میں شعور بیداری تحریک چلا رہی ہے ڈاکٹر عبدالقدوس صدر شعبہ اردو نے کہا کہ ان کا تعلق اگرچہ کے فیض آباد کے ایک دیہات سے ہے لیکن انہوں نے تعلیم کی غرض سے حیدرآباد ہجرت کی اور پھر مولانا ازاد یونیورسٹی کے کورسیس سے استفادہ کیا اور الحمدللہ اب ایک اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدہ پر فائز ہیں ڈاکٹر محمد انور الدین لیکچرر شعبہ اردو نے طلبہ و طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ خود بھی یونیورسٹی کی تعلیم سے استفادہ کریں اور جو لوگ تعلیم ترک کر دیے ہیں ان کو بھی تعلیم جاری رکھنے کا مشورہ دیں انہوں نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے اپنی دیرینہ وابستگی کا بھی تذکرہ کیا
کوآرڈینیٹر مانو المنائی اسوسی ایشن جناب محمد حسام الدین ریاض نے مانو المنائی اسوسی ا یشن کی طرف سے طالبات میں مولانا آزاد یونیورسٹی کے کورسیس سے متعلق شعور بیداری پروگرام پر اظہار اطمینان کیا اور کہا کہ مولانا آزاد یونیورسٹی میں جتنی کم فیس پر بڑے سے بڑے کورس میں داخلہ لیا جا سکتا ہے اور کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اس طرح کی سہولت کسی اور جگہ ہمیں حاصل نہیں ہے انہوں نے طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ ہر روز اردوکے ایک اخبار کا ضرور مطالعہ کریں بہت سارے تعلیمی معلومات ہمیں اردو اخبارات کے ذریعے ہی حاصل ہوتے ہیں اس موقع پر انہوں نے طالبات سے عہد لیا کہ وہ اردو اخبار ضرور خریدیں گے جس پر طالبات نے ہاتھ اٹھا کر اپنے عہد کا اظہار کیا
جناب سید عبدالمغنی ارشد نے بھی مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے کورسیس سے طالبات کو واقف کروایا تعلیمی شعور بیداری پروگرام کی کاروائی لکچرر محترمہ سیدہ عشرہ فاطمہ نے بڑی ہی عمدگی سے چلائی اور طالبات سے کہا کہ مانو المنائی اسوسی ایشن کی طرف سے منظم کیے گئے اس پروگرام میں جو تعلیمی معلومات حاصل ہوئی ہیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اس موقع پر ڈاکٹر فوزیہ فاطمہ لیکچرر عربی، محترمہ گوہر جہاں لیکچرر عربی کے علاوہ محترمہ صبا صدیقہ اور جناب محمد محی الدین بھی موجود تھے اس موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں فاصلاتی کورسیس میں داخلوں سے متعلق پمفلیٹس بھی طالبات میں تقسیم کیے گئے
طالبات نے پروفیسر مصطفی علی سروری سے مختلف کورسیس سے متعلق سوالات بھی کیے جن کا انہوں نے تشفی بخش جواب دیا