سوشیل میڈیا

16 آنے سے ڈیجیٹل روپے تک، 80 برس میں کیسے بدلی ہندوستانی کرنسی کی شکل؟

ایک روپے کے نوٹ کی کہانی بھی خاص ہے۔ ہندوستان میں عام طور پر نوٹوں پر ریزرو بینک کے گورنر کے دستخط ہوتے ہیں، لیکن ایک روپے کے نوٹ پر مرکزی وزارتِ خزانہ کے سکریٹری کے دستخط ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک روپے کا نوٹ براہِ راست حکومتِ ہند کی قانونی کرنسی تصور کیا جاتا ہے۔

نئی دہلی: جیب میں رکھے چند سکوں سے لے کر موبائل فون کی اسکرین پر دکھائی دینے والی ڈیجیٹل کرنسی تک، ہندوستانی روپے نے آزادی کے بعد تقریباً 80 برس میں ایک طویل اور دلچسپ سفر طے کیا ہے۔ کبھی ایک روپے میں 16 آنے ہوا کرتے تھے، آج اسی روپے کی ادائیگی چند سیکنڈ میں موبائل سے ہو جاتی ہے۔

آزادی سے پہلے ہندوستان کے مختلف شاہی اور ریاستی علاقوں میں الگ الگ سکوں اور کرنسیوں کا رواج تھا۔ حیدرآباد کے نظام کے سکے ہوں یا مراٹھا علاقوں کی کرنسی، مختلف خطوں میں اپنی اپنی مالیاتی روایات موجود تھیں۔ آزادی کے بعد ملک کے اقتصادی انضمام کے ساتھ ایک متحدہ کرنسی نظام کی ضرورت مزید اہم ہوگئی۔

1935 میں ریزرو بینک آف انڈیا کے قیام کے بعد کرنسی جاری کرنے کا نظام ایک مرکزی ادارے کے تحت آگیا۔ اس سے پہلے مختلف بینک اور پریزیڈنسی بینک بھی کرنسی جاری کرتے تھے، جبکہ 1861 کے پیپر کرنسی ایکٹ کے بعد حکومت کو کاغذی کرنسی جاری کرنے کا اختیار حاصل ہوا تھا۔

ایک روپے کے نوٹ کی کہانی بھی خاص ہے۔ ہندوستان میں عام طور پر نوٹوں پر ریزرو بینک کے گورنر کے دستخط ہوتے ہیں، لیکن ایک روپے کے نوٹ پر مرکزی وزارتِ خزانہ کے سکریٹری کے دستخط ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک روپے کا نوٹ براہِ راست حکومتِ ہند کی قانونی کرنسی تصور کیا جاتا ہے۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران چاندی کی قلت کے باعث ایک روپے کا کاغذی نوٹ جاری کیا گیا۔ آزادی کے بعد 1949 میں برطانوی بادشاہ کی تصویر کی جگہ سارناتھ کے اشوک ستون کو شامل کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک وقت میں ہندوستانی روپے کے نوٹ خلیجی خطے کے بعض ممالک، جن میں دبئی، بحرین اور عمان شامل تھے، میں بھی استعمال ہوتے تھے۔

آزادی کے بعد بھی ہندوستانی روپے کا نظام فوراً تبدیل نہیں ہوا۔ 1957 تک ایک روپے میں 16 آنے ہوتے تھے، لیکن یکم اپریل 1957 کو ہندوستان نے اعشاری نظام اختیار کرلیا اور ایک روپے کو 100 پیسوں میں تقسیم کردیا گیا۔

وقت کے ساتھ مہنگائی اور سکوں کی قوتِ خرید میں تبدیلی کے باعث کم مالیت کے سکوں کی اہمیت بھی کم ہوتی گئی۔ 2011 میں 25 پیسے اور اس سے کم مالیت کے سکے مستقل طور پر ختم کردیئے گئے۔

ہندوستانی کرنسی کی تاریخ میں ایک اہم تبدیلی اس وقت آئی جب 1987 میں پہلی مرتبہ 500 روپے کے نوٹ پر مہاتما گاندھی کی تصویر نظر آئی۔ بعد ازاں 1996 سے ریزرو بینک نے مہاتما گاندھی سیریز کے نوٹ متعارف کرائے، جن میں نقلی نوٹوں کی روک تھام کے لیے واٹر مارک اور حفاظتی دھاگے جیسی جدید خصوصیات شامل کی گئیں۔

اس کے بعد 8 نومبر 2016 کو ہندوستان کی مالیاتی تاریخ کا ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا، جب حکومت نے پرانے 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد نیا 2000 روپے کا نوٹ بھی جاری ہوا، جسے بعد میں صاف ستھری نوٹ پالیسی کے تحت واپس لے لیا گیا۔

2010 میں ہندوستانی روپے کو بھی ڈالر، پاؤنڈ، یورو اور ین کی طرح ایک مخصوص علامت ملی۔ ₹ کا نشان آئی آئی ٹی بمبئی کے فارغ التحصیل ڈی۔ ادے کمار نے تیار کیا تھا۔ اس میں دیوناگری کے حرف ’’ر‘‘ اور رومن حرف ’’R‘‘ کے عناصر شامل کیے گئے ہیں۔

روپے کے سفر کا تازہ ترین مرحلہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا دور ہے۔ آج کسی دکان پر خریداری ہو، چائے کی ادائیگی ہو یا بڑی رقم کی منتقلی، موبائل فون سے کیو آر کوڈ اسکین کرکے چند سیکنڈ میں لین دین مکمل کیا جاسکتا ہے۔

یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس یعنی یو پی آئی نے روپے کو اس کے روایتی کاغذی اور سکّے کی شکل سے آگے بڑھا کر ڈیجیٹل دنیا میں پہنچا دیا ہے۔ ریزرو بینک کی جانب سے مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی کا آغاز بھی ہندوستان کے مالیاتی نظام میں ایک اہم قدم قرار دیا جاتا ہے۔

یوں دیکھا جائے تو ہندوستانی روپیہ صرف ایک کرنسی نہیں بلکہ ملک کی اقتصادی اور تکنیکی ترقی کی کہانی بھی ہے۔ 16 آنے والے روپے سے لے کر موبائل کی اسکرین پر چند لمحوں میں منتقل ہونے والے ڈیجیٹل روپے تک، اس کرنسی نے تقریباً آٹھ دہائیوں میں کئی بڑی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔