دہلی

کانگریس ایم پی، چھتیس گڑھ، راجستھان میں دوگنی طاقت کے ساتھ واپس آئے گی: کھڑگے

ان تینوں ریاستوں میں ہماری کارکردگی بلاشبہ مایوس کن رہی لیکن ہمیں پختہ یقین ہے کہ اس کے ساتھ ان تینوں ریاستوں میں سخت محنت اور عزم سے ہم مضبوطی کے ساتھ واپسی کریں گے۔

نئی دہلی: کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے تلنگانہ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو ووٹ دینے والے ووٹروں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ جن ریاستوں میں پارٹی کو شکست ہوئی ہے، وہاں وہ دوگنے جوش کے ساتھ واپسی کرے گی کھڑگے نے کہا ’’میں تلنگانہ کے عوام کا ان سے ملے مینڈیٹ کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔

متعلقہ خبریں
کتے کے بچے کو ہلاک کرنے والے کے خلاف کارروائی کی جائے (دردناک ویڈیو)
کانگریس ایک ملک، ایک الیکشن کی شدید مخالف
پارلیمنٹ سیکیوریٹی میں نقائص، راجستھان کے ناگور سے موبائل فونس کے ٹکڑے برآمد
سلطان العلوم کیمپس میں ووٹر شعور بیداری پروگرام
بی جے پی حکومت اپنی ناکامیاں چھپانے جذباتی مسائل اٹھارہی ہے: ملیکارجن کھرگے

 میں ان تمام ووٹروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں ہمیں ووٹ دیا۔ ان تینوں ریاستوں میں ہماری کارکردگی بلاشبہ مایوس کن رہی لیکن ہمیں پختہ یقین ہے کہ اس کے ساتھ ان تینوں ریاستوں میں سخت محنت اور عزم سے ہم مضبوطی کے ساتھ واپسی کریں گے۔‘‘

انہوں نے کہا’’کانگریس پارٹی نے ان چار ریاستوں میں پوری طاقت اور پُر زور طریقے سے انتخابات میں حصہ لیا۔ اس کے لیے میں اپنے لاکھوں کارکنوں کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم ان عارضی ناکامیوں پر قابو پالیں گے اور انڈیا اتحاد کی جماعتیں مل کر آئندہ لوک سبھا انتخابات کے لیے اپنے آپ کو دوگنے جوش کے ساتھ پوری طرح تیار کریں گی۔‘‘

اس دوران کانگریس لیڈر پرمود کرشنن نے کہا کہ ’’یہ کانگریس کی شکست نہیں ہے، یہ بائیں بازو کی شکست ہے، یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ آج کانگریس کو سناتن مخالف پارٹی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ کانگریس وہی پارٹی ہے جس کے لیڈر بابا قوم مہاتما گاندھی رگھوپتی راگھوکہہ کر اپنے کاموں کا آغاز یکرتے تھے۔

ضرورت ان لیڈروں کو کانگریس سے باہر کرنے کی ہے جو اس پارٹی کو مہاتما گاندھی کے راستے سے ہٹا کر بائیں بازو کی راہ پر لے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا ’’جو لوگ کانگریس کو گاندھی کے راستے سے ہٹانے میں لگے ہوئے ہیں، ان کا کانگریس میں بڑا اثر ہے اور انہیں فوری طور پر ہٹایا جانا چاہئے، اگر انہیں نہیں ہٹایا گیا تو کانگریس جلد ہی اے آئی ایم ای ایم کی طرح ہو جائے گی۔ ذات پات کی سیاست اور سناتن کی مخالفت ہمیں لے ڈوبی کیونکہ ان دونوں کو اس ملک میں کبھی قبول نہیں کیا گیا۔‘‘