اتراکھنڈ میں وائرل ویڈیو پر بڑھتا تنازع، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرہ
بھپیش جوشی یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ وہ مسجد کے اندر ہولی کھیلیں گے، جو کہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے
اتراکھنڈ سے سامنے آنے والی ایک وائرل ویڈیو نے ریاست میں سیاسی اور سماجی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ اس ویڈیو میں مبینہ طور پر بھپیش جوشی کو دیکھا جا سکتا ہے، جنہیں کالی سینا کا لیڈر بتایا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں وہ انتہائی اشتعال انگیز اور نفرت انگیز بیانات دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ویڈیو میں بھپیش جوشی یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ وہ مسجد کے اندر ہولی کھیلیں گے، جو کہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ویڈیو میں مسلمانوں کو کھلی دھمکیاں دی گئی ہیں اور انہیں اتراکھنڈ چھوڑنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ ان بیانات کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مختلف سماجی تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنان اور امن پسند حلقوں نے اس پر سخت اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف آئینِ ہند کے خلاف ہیں بلکہ ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال کو بھی خراب کر سکتے ہیں۔ کئی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت قوانین کے تحت فوری کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب، سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ویڈیو اصلی ہے یا اس میں کسی قسم کی ترمیم کی گئی ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کسی سرکاری ادارے نے تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی اب تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث عوام میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس بیانات تہواروں کے موقع پر سامنے آنا ریاست میں امن و امان کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر معاملے کا نوٹس لے، ویڈیو کی جانچ کرے اور اگر الزامات درست پائے جائیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے سے روکا جا سکے۔