تلنگانہ میں سائبر جرائم کے نیٹ ورک کا پردہ فاش
، 18 خواتین سمیت 101 گرفتار، 17 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کا انکشاف
حیدرآباد : تلنگانہ سائبر سکیورٹی بیورو نے 6 ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں چلائی گئی بین ریاستی کارروائی کے دوران 18 خواتین سمیت 101 سائبر مجرموں کو گرفتار کیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 17 کروڑ روپے کے دھوکہ دہی پر مبنی لین دین کا پردہ فاش ہوا ہے۔
بیورو کی ڈائریکٹر شیکھا گوئل نے بدھ کو ایک اعلامیے میں بتایا کہ 23 ستمبر سے شروع کی گئی یہ خصوصی کارروائی تلنگانہ، آندھرا پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری میں چلائی گئی۔ اس کارروائی میں 100 سے زیادہ پولیس اہلکاروں پر مشتمل 06 خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی تھیں۔
گرفتار کیے گئے 101 ملزمان میں کیرالا سے 35، آندھرا پردیش سے 22، کرناٹک سے 17، تمل ناڈو سے 14، تلنگانہ سے 12 اور پڈوچیری سے ایک شخص شامل ہے۔ ان میں 19 ایجنٹ اور 81 ‘مِیوَل اکاؤنٹ’ رکھنے والے افراد ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے کئی موبائل فون، سم کارڈ، بینک پاس بک اور چیک بک ضبط کی ہیں۔ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ سائبر جعل ساز درمیانی افراد کے ذریعے بینک اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے اور ان کا استعمال اے ٹی ایم سے رقم نکالنے، بڑے پیمانے پر لین دین اور غیر ملکی رابطوں کے ذریعے دھوکہ دہی کی رقم منتقل کرنے کے لیے کرتے تھے۔ اس کے بدلے اکاؤنٹ رکھنے والوں کو 05 فیصد تک کمیشن دیا جاتا تھا۔ یہ کارروائی بیورو کے 07 پولیس تھانوں میں درج 51 مقدمات سے متعلق ہے۔
تفتیشی افسران نے ملک بھر میں اب تک سائبر جرائم کے 1,172 روابط کا سراغ لگایا ہے، جن میں سے 206 تلنگانہ سے متعلق ہیں۔ گرفتار کیے گئے 50 ملزمان میں سے ہر ایک کے 05 سے زیادہ مقدمات سے تعلق پایا گیا ہے۔ اس کارروائی میں کئی چونکا دینے والے انکشافات ہوئے ہیں۔