تلنگانہ

سکندرآباد کے میڈی کیئر اسپتال میں 2 سالہ بچی کی موت، طبی غفلت کے سنگین الزامات

متاثرہ خاندان کے مطابق اسپتال کے عملے نے بچی کا ایم آر آئی اسکین کرنے کی بات کہی اور مبینہ طور پر ضروری طبی جانچ کیے بغیر اسے بے ہوشی کی دوا دے دی۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ بچی کی ایم آر آئی کے دوران ہی صبح تقریباً 10 سے 11 بجے کے درمیان موت واقع ہوگئی۔

حیدرآباد: سکندرآباد کے میڈی کیئر اسپتال میں 2 سالہ بچی کی موت کے بعد اسپتال انتظامیہ پر سنگین طبی غفلت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ واقعہ 11 ستمبر کو پیش آیا، جب گناشری نامی بچی کو اس کے والدین علاج کے لیے اسپتال لے کر پہنچے تھے۔

متاثرہ خاندان کے مطابق اسپتال کے عملے نے بچی کا ایم آر آئی اسکین کرنے کی بات کہی اور مبینہ طور پر ضروری طبی جانچ کیے بغیر اسے بے ہوشی کی دوا دے دی۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ بچی کی ایم آر آئی کے دوران ہی صبح تقریباً 10 سے 11 بجے کے درمیان موت واقع ہوگئی۔

خاندان کا مزید الزام ہے کہ بچی کی موت کے باوجود اسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے نے کئی گھنٹوں تک علاج جاری رہنے کا تاثر دیا اور شام تقریباً 4 بجے اہل خانہ کو بتایا گیا کہ بچی انتقال کرچکی ہے۔

اس واقعے کے بعد اسپتال میں بچے کی موت سے متعلق طریقہ کار اور انتظامیہ کے کردار پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ بچی کی لاش منتقل کرتے وقت اسپتال کا عملہ غم کا اظہار کرتا رہا، جبکہ انہیں مبینہ طور پر بچی کی موت کے بارے میں بروقت اطلاع نہیں دی گئی۔

خاندان کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے واقعے کی ذمہ داری ایک ملازم پر ڈالنے کی کوشش کی اور اسے ملازمت سے ہٹا دیا، جبکہ انتظامیہ نے اپنی جانب سے کسی غفلت کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

واقعے نے بچوں کے علاج، اینستھیزیا دینے سے قبل ضروری طبی جانچ اور ایم آر آئی جیسے طریقہ کار کے دوران مریضوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے۔

تاہم، بچی کی موت کی اصل وجہ اور آیا اسپتال میں طبی پروٹوکول پر مکمل طور پر عمل کیا گیا تھا یا نہیں، اس کا تعین طبی ریکارڈ اور آزادانہ تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔ واقعے نے نجی اسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت اور جوابدہی سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔