قومیمذہب

تمباکو کی مختلف صورتیں اور ان کےاستعمال کا حکم

حقیقت یہ ہے کہ تمباکو صحت کے لئے بہت نقصاندہ بھی ہے ، اس میں فضول خرچی بھی ہے اور بعض دفعہ یہ چیز انسان کو منشیات تک بھی پہنچا دیتی ہے،ساتھ ہی ساتھ ادویہ میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔

سوال:- آج کل تمباکو کی مختلف شکلیں مروج ہوگئی ہیں ، کھینی تو ایک پرانا طریقہ ہے جس کے بنانے کیلئے کارخانہ کی ضرورت نہیں پڑتی ، اسی سے قریب طریقہ بیڑی ہے تمباکو کی بعض شکلوں کے لئے کارخانہ قائم ہیں ، جیسے گٹکھا ، سگریٹ وغیرہ ، اسی طرح پان میں استعمال ہونے والا زردہ جسے علماء و مشائخ بھی استعمال کرتے ہیں ،

یہی حال حقہ کا ہے ، بعض لوگ تمباکو کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیں ؛ کیوںکہ یہ نشہ آور نہیں ہے اور بعض لوگ ناجائز، اس سلسلہ میں لوگ کافی مضطرب ہیں ، مناسب ہوگا کہ آپ اس کی وضاحت فرمائیں۔ ( بلال احمد، بولارم)

جواب :- تمباکو کے سلسلہ میں پہلے سے علماء کی رائے مختلف رہی ہیں ، بعض حضرات نے بالکل حرام کہا ہے ، بعض نے ناجائز اور بعض نے مکروہ، اس اختلاف کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ گذشتہ اطباء بھی اس کے نقصان سے واقف تھے ؛

لیکن زیادہ تران کا استعمال دوا کے طورپر ہوتا تھا ، موجودہ دور میں تین باتوں کا اضافہ ہوگیا ہے ، ایک یہ کہ تمباکو کی مضرتیں پوری طرح واضح ہوکر سامنے آگئی ہیں ، منھ ، حلق ، پھیپھڑا اور جگر کے کینسر زیادہ تر تمباکو کے استعمال سے ہوتے ہیں ، دوسرے : اب تمباکوکو لذیذبنانے کے لئے بعض اور اجزاء بھی ساتھ ملائے جاتے ہیں ، جس سے اس کا نقصان اور بڑھ جاتا ہے ،

جیسے سگریٹ بمقابلہ بیڑی کے زیادہ نقصاندہ ہے، اور گٹکھا ، کھینی کے مقابلہ زیادہ مضرت رساں ہے ، گذشتہ زمانہ میں یہ طریقے مروجہ نہیں تھے ، تیسرے : آج کل اس طرح کی بھی رپورٹس آتی رہتی ہیں کہ بہت سی دفعہ تمباکو کی بعض صورتوں خاص کر گٹکھا میں حرام یا نشہ آور چیز ملا دی جاتی ہے ؛ تاکہ وہ استعمال کرنے والوں کے لئے زیادہ سرور کا باعث بنے ،

یہ صرف اندازہ کی بات نہیں ہے ؛ بلکہ کئی جگہ لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعہ اس کا ثبوت مل چکا ہے ؛ اسی لئے ملک کی مختلف ریاستوں میں گٹکھا پر مکمل پابندی لگادی گئی ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ تمباکو صحت کے لئے بہت نقصاندہ بھی ہے ، اس میں فضول خرچی بھی ہے اور بعض دفعہ یہ چیز انسان کو منشیات تک بھی پہنچا دیتی ہے،ساتھ ہی ساتھ ادویہ میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے ؛ اس لئے ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ :

(۱) اگر معالج نے کسی کو تمباکو کے مکمل طورپر چھوڑ دینے کا حکم دیا ہو ، اس کے لئے کینسر جیسی سخت بیماری میں مبتلا ہوجانے یا اس میں اضافہ کا سبب قرار دیا ہوتواس کو چھوڑنا واجب اور اس کا استعمال حرام ہے ؛ کیوںکہ جسم اللہ کی امانت ہے اور اس کو ہلاکت سے بچانا ایک شرعی فریضہ ہے : لو أضر ببعض الطبائع فھو علیہ حرام (العقود الدریۃ : ۲؍۳۳۲)

(۲) اگر اس میں نشہ آور چیز یا کوئی اور حرام شئے ملائی گئی ہو ، تب بھی اس کا استعمال حرام ہوگا ۔

(۳) اگر کوئی حرام چیز نہ ملائی گئی ہو اور نہ اس سے متعین طورپر اتنی سخت مضرت کا اندیشہ ہوتو فضول خرچی اور فی الجملہ باعث نقصان ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال مکروہ تحریمی یعنی قریب بہ حرام ہے : وقد حقق المتأخرون من أھل مذھبنا الحنفیۃ انہ ( شرب الدخان) لیس بحرام وانما فی تعاطیہ الکراھیۃ ( الفتاویٰ الکاملیۃ : ۲۸۶ ، کتاب الکراھیۃ)

(۴) اگر دوا میں اس کا جز استعمال کیا جائے، یا کسی بیماری کی وجہ سے استعمال کرتا ہو ، مثلاً : دانت کی تکلیف کی وجہ سے، یا اس کے بغیر اس کو اجابت نہیں ہوتی ہوتو اس کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے ؛ کیوںکہ بیماری کی وجہ سے ایسی چیزوں کا استعمال درست قرار دیا گیا ہے ،جن کااستعمال عام حالات میں درست نہیں ہو۔