سوال:- جو لوگ بیڑی یا سگریٹ پیتے ہیں ، دیر تک ان کے منھ سے بدبو آتی ہے اور یہ بدبو اتنی شدید ہوتی ہے کہ لوگوں کے لئے ان کے قریب بیٹھنا مشکل ہوجاتا ہے ، اگر نماز میں کھڑے ہوگئے تو ان کے بازو میں کھڑے ہونے والوں کے لئے نماز ادا کرنا دشوار ہوجاتا ہے ، ایسے شخص کے لئے جماعت میں کھڑے ہونے کا کیا حکم ہے ؟ (محب الحق، ملك پیٹ)
جواب :- رسول اللہ صلی الله علیه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کچی لہسن یا پیاز کھالے ، وہ ہماری مسجد سے دُور رہے ؛ اس لئے کہ جس چیز سے انسان کو تکلیف ہوتی ہے، اس سے فرشتوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے:
من أکل الثوم والبصل والکراث والفجل، فلایقربن مسجدنا؛ فإن الملائکۃ تتأذی مما یتأذی منہ بنو آدم (المعجم الصغیر للطبرانی:۱؍۴۵،حدیث نمبر:۳۷ )
یہ ممانعت صرف کچی لہسن اور پیازہی سے متعلق نہیں ہے ؛ بلکہ یہ ہر بدبودار چیز کوشامل ہے ، جو لوگ تیل نکالنے کے کاروبار کرتے تھے، ان کے کپڑوں میں بھی بدبو پیدا ہوجاتی تھی ؛ اس لئے امام مالکؒ سے منقول ہے کہ ایسے لوگ پیچھے کی صف میں کھڑے ہوں ، آگے کی صف میں کھڑے نہ ہوں:
إن الزیاتین یتأخرون ولا یتقدمون إلی الصف الأول بل یقعدون فی أخر یات الناس (غمز عیون البصائر : ۴؍۵۹)
بلکہ اگر کسی کے کپڑے بہت میلے کچیلے ہوں ، یہاں تک کہ اس سے بو آنے لگے تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے : وحکم من رائحۃ ثیابہ کریھۃ کثیاب الزیاتین والدباغین ونحوھم حکم أکل الثوم ( غمز عیون البصائر : ۴؍۵۹)
اس لئے اولاً تو سگریٹ بیڑی اور اس طرح کی چیزوں کااستعمال ہی مکروہ ہے، یہ صحت کے لئے بھی نقصاندہ ہیںاور شرعی اعتبار سے بھی قابل ترک ؛ لیکن اگر کوئی شخص اس کا عادی ہو تو اس کی وجہ سے جماعت چھوڑے نہیں ؛ بلکہ نماز سے پہلے اچھی طرح مسواک اور ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کرے ، یا سونف وغیرہ ایسی چیز کھالیا کرے جس سے منھ کی بدبو دور ہوجاتی ہے، پھر مسجد جائے ۔