قومیمذہب

فحش لٹریچر اور سی ڈی کی فروخت

جیسے گناہ سے خود بچنا ضروری ہے ، دوسروں کو گناہ سے بچانا بھی ضروری ہے ،؛اسی لئے کسی کے گناہ میں مددگار ہونا جائز نہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ نیکی اور تقویٰ کے کام میں مدد کرو ، گناہ اور ظلم کے کاموں میں مدد مت کرو:

سوال:- موجودہ دور میں فحش لٹریچر اور سی ڈی وغیرہ کی کثرت ہوگئی ہے اور اس سے بڑا اخلاقی بگاڑ پیدا ہورہا ہے ؛ لیکن اس سے قطع نظر اگر کوئی خود اس کا استعمال نہیں کرے ؛ لیکن اسے فروخت کرے تو کیا اس کے لئے یہ عمل جائز ہوگا ؟ ( خالد حسین، مهدی پٹنم)

جواب :- جیسے گناہ سے خود بچنا ضروری ہے ، دوسروں کو گناہ سے بچانا بھی ضروری ہے ،؛اسی لئے کسی کے گناہ میں مددگار ہونا جائز نہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ نیکی اور تقویٰ کے کام میں مدد کرو ، گناہ اور ظلم کے کاموں میں مدد مت کرو:

وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوٰی وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ( المائدۃ : ۲) اس لئے فقہاء نے ایسی چیزوں کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جو سماج میں گناہ اور ظلم کو پھیلانے کا ذریعہ ہو ، جیسے زمانۂ فساد میں مفسدین کے ہاتھوں ہتھیار کا بیچنا ۔

اس لئے ایسی بے حیائی اور فساد پھیلانے والی چیزوں کا تیار کرنا ، خریدنا ، بیچنا اور پھیلانا سب کا سب حرام اور سخت گناہ ہے اور کسی کے ہاتھ بھی ایسی چیزیں بیچنا حرام ہے ،خواہ گاہک مسلمان ہو یا غیر مسلم ؛ اس لئے کہ یہ ایک انسانی اوراخلاقی مسئلہ ہے ۔

٭٭٭