سوشیل میڈیا
ٹرینڈنگ

ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگی نظام متاثر، یو پی آئی خدمات میں خلل سے صارفین کو شدید مشکلات

متعدد صارفین نے شکایت کی کہ ان کے ٹرانزیکشنز مکمل نہیں ہو رہے تھے یا درمیان میں ہی رک جا رہے تھے، جس سے روزمرہ کے مالی معاملات متاثر ہوئے۔

نئی دہلی: ملک میں ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات میں بڑے پیمانے پر خلل دیکھنے میں آیا، جس کے باعث یو پی آئی پلیٹ فارمز کے ذریعے لین دین کرنے والے لاکھوں صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

متعلقہ خبریں
بجٹ میں تلنگانہ نظرانداز‘شہر میں زیر وفلکسیز آویزاں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات

متعدد صارفین نے شکایت کی کہ ان کے ٹرانزیکشنز مکمل نہیں ہو رہے تھے یا درمیان میں ہی رک جا رہے تھے، جس سے روزمرہ کے مالی معاملات متاثر ہوئے۔

سب سے زیادہ اثر State Bank of India یعنی اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی خدمات پر دیکھا گیا۔ آؤٹج ٹریکنگ پلیٹ فارم Down Detector کے مطابق اچانک شکایات میں زبردست اضافہ ہوا۔ صرف اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے صارفین کی جانب سے 500 سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جبکہ UCO Bank یعنی یوکو بینک سے متعلق تقریباً 40 شکایات درج کی گئیں۔

یہ مسئلہ صرف ایک یا دو شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ نئی دہلی، ممبئی، بنگلورو، جئے پور، پونے، کولکتہ، گوہاٹی اور چنئی جیسے بڑے شہروں سے بھی صارفین نے لین دین میں ناکامی کی شکایات درج کروائیں۔

 کئی صارفین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کیا، جہاں کچھ افراد نے بتایا کہ ان کے ٹرانزیکشنز ادھورے رہ گئے جبکہ کچھ کے یو پی آئی ایپس بالکل لوڈ نہیں ہو رہے تھے۔

اس صورتحال پر State Bank of India نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شیڈول کے مطابق جاری مینٹیننس کاموں کا وقت بڑھا کر 1 اپریل دوپہر 12:30 بجے تک کر دیا گیا تھا، جس کے باعث یو پی آئی، آئی ایم پی ایس، یونو، انٹرنیٹ بینکنگ، نیفٹ اور آر ٹی جی ایس جیسی خدمات میں عارضی خلل پیدا ہوا۔

بینک نے اس پریشانی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ متبادل ذرائع جیسے یو پی آئی لائٹ، ای-روپی (سی بی ڈی سی) ایپ اور اے ٹی ایم خدمات کا استعمال کریں تاکہ لین دین میں آسانی برقرار رکھی جا سکے۔