سوشیل میڈیاشمالی بھارت

مدھیہ پردیش میں تعلیم کیلئے بچوں کی جان خطرے میں، تیز بہاؤ والے بند سے چھلانگ لگا کر اسکول جانے پر مجبور(ویڈیو)

یہ معاملہ صرف ایک سڑک، پل یا راستے کی عدم موجودگی کا مسئلہ نہیں بلکہ براہ راست بچوں کی زندگیوں سے جڑا ہوا ہے۔ جن بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں اور بستے ہونے چاہئیں، وہ اسکول پہنچنے کے لیے پانی کے خطرناک بہاؤ کے اوپر اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

بھوپال: دھیہ پردیش کے ودیشا ضلع سے ایک انتہائی تشویشناک منظر سامنے آیا ہے، جہاں اسکول جانے والے معصوم بچے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ہر روز جان خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہیں۔ بچوں کو اسکول پہنچنے کے لیے تیز بہاؤ والے اسٹاپ ڈیم کو عبور کرنا پڑتا ہے اور کئی بچے خطرناک انداز میں چھلانگ لگا کر دوسری جانب پہنچتے ہیں۔

یہ منظر نہ صرف انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہا ہے بلکہ بچوں کی حفاظت کے حوالے سے بھی سنگین تشویش پیدا کررہا ہے۔ تصور کیجیے کہ اگر اس خطرناک راستے سے گزرتے ہوئے کسی بچے کا قدم پھسل جائے اور وہ پانی کے تیز بہاؤ میں جاگرے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

والدین اور مقامی افراد کے مطابق بچوں کے لیے اسکول تک پہنچنے کا محفوظ راستہ موجود نہیں ہے، جس کے باعث معصوم طلبہ کو روزانہ خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔ خاص طور پر بارش کے موسم میں جب پانی کا بہاؤ تیز ہوجاتا ہے، اس مقام سے گزرنا مزید خطرناک بن جاتا ہے۔

تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ اسکول تک پہنچنے سے پہلے ہی بچوں کو اپنی جان کی حفاظت کا امتحان دینا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے تعلیم کو فروغ دینے اور بچوں کو اسکول تک پہنچانے کے لیے مختلف منصوبوں اور اقدامات کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن دوسری طرف ان بچوں کے لیے ایک محفوظ راستہ یا پل تک فراہم نہیں کیا جاسکا۔

یہ معاملہ صرف ایک سڑک، پل یا راستے کی عدم موجودگی کا مسئلہ نہیں بلکہ براہ راست بچوں کی زندگیوں سے جڑا ہوا ہے۔ جن بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں اور بستے ہونے چاہئیں، وہ اسکول پہنچنے کے لیے پانی کے خطرناک بہاؤ کے اوپر اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو کسی بڑے حادثے کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر اس مقام کا معائنہ کرنا چاہیے اور بچوں کے لیے محفوظ آمدورفت کا مستقل انتظام کرنا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ کیا کسی بچے کی جان جانے کے بعد ہی انتظامیہ حرکت میں آئے گی؟ کیا بچوں کو تعلیم دینے کے لیے پہلے انہیں محفوظ راستہ فراہم کرنا ضروری نہیں؟

حکومتیں تعلیم کے فروغ پر بڑے بڑے دعوے اور تشہیری مہمات پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہیں، لیکن اگر ایک اسکول جانے والے بچے کے لیے محفوظ راستہ بھی فراہم نہ کیا جاسکے تو ایسے دعووں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں دینے سے پہلے انہیں اسکول تک پہنچنے کا محفوظ راستہ دینا ہوگا، کیونکہ تعلیم کی منزل تک پہنچنے والے راستے میں کسی معصوم کی جان خطرے میں نہیں ڈالی جاسکتی۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ انتظامیہ فوری طور پر اس خطرناک مقام پر محفوظ پل یا آمدورفت کا مناسب انتظام کرے، تاکہ ودیشا کے ان معصوم بچوں کو ہر روز اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسکول جانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔