حیدرآباد

کابینہ کے فیصلوں پر بحث، چیف منسٹر ریونت ریڈی کی وضاحت

تلنگانہ میں کانگریس حکومت برسراقتدار آنے کے بعد سنسنی خیز فیصلے کررہی ہے۔ ریونت ریڈی کی حکومت نے کابینہ میں لیے گئے فیصلے اب ریاست میں ایک گرما گرم بحث میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں کانگریس حکومت برسراقتدار آنے کے بعد سنسنی خیز فیصلے کررہی ہے۔ ریونت ریڈی کی حکومت نے کابینہ میں لیے گئے فیصلے اب ریاست میں ایک گرما گرم بحث میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں
خطبہ میں گورنر کے لب ولہجہ میں تبدیلی پر سیاسی بحث
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی شہر آمد
مسلم بھائیوں کو ماہ صیام کی چیف منسٹر کی مبارکباد
تلنگانہ اسمبلی کا فروری میں بجٹ سیشن طلب
ضلع ملگ میں بی آئی ایل ٹی مل کے احیاء کو اولین ترجیح: ریونت ریڈی

کابینہ اجلاس میں ”جیا جئے تلنگانہ” کے ترانے کو ریاست کا سرکاری ترانہ قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ آج چیف منسٹر ریونت ریڈی نے تلنگانہ میں کانگریس دور حکومت میں کابینہ میں بدلتی پالیسیوں اور سنسنی خیز فیصلوں پر ٹویٹر پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کسی بھی قوم کے وجود کا پتہ اس کی زبان اور ثقافتی ورثہ ہوتا ہے۔

ہم اس وراثت کو برقرار رکھنے کے لئے نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم نے ‘جیا جئے تلنگانہ ‘ ترانہ کو ریاست کا سرکاری ترانہ قرار دیا ہے۔ ہم تلنگانہ تلی کے مجسمہ کو ایک اوسط تلنگانہ لڑکی کے خاکہ کے ساتھ ڈیزائن کریں گے۔

ریاست کا سرکاری نشان شاہی رجحانات کے بغیر علامت ہو گی۔ گاڑیوں کی رجسٹریشن میں ٹی ایس کے بجائے ٹی جی کے حروف ہوں گے، جس کے متعلق عوام نے علحدہ ریاست کے لئے تحریک کے دوران نمائندگی کی تھی۔

ہمارے فیصلے تلنگانہ کے چار کروڑ عوام کی امنگوں پر مبنی ہیں۔ ہم نے ریاستی کابینہ میں لوگوں کی امنگوں کو پورا کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اپنے ٹویٹ میں ان باتوں کی وضاحت کی۔