دہلی

الیکشن کمیشن بے بس کٹھ پتلی، مودی کو نوٹس نہ بھیجنے پر کپل سبل کی تنقید

رکن راجیہ سبھا کپل سبل نے جمعہ کے دن کہا کہ اپوزیشن کے الزام پر وزیراعظم نریندر مودی کے بجائے الیکشن کمیشن کا بی جے پی سے جواب مانگنا دکھاتا ہے کہ وہ ”بے بس کٹھ پتلی“ ہے۔

نئی دہلی: رکن راجیہ سبھا کپل سبل نے جمعہ کے دن کہا کہ اپوزیشن کے الزام پر وزیراعظم نریندر مودی کے بجائے الیکشن کمیشن کا بی جے پی سے جواب مانگنا دکھاتا ہے کہ وہ ”بے بس کٹھ پتلی“ ہے۔

متعلقہ خبریں
توہین آمیز ریمارکس پر کے سی آر کو نوٹس
عبوری اسپیکر کا بائیکاٹ کرنے پر کپل سبل کی بی جے پی پر تنقید
الیکشن کمشنرس کے تقرر پر روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار
نیشنل ہیرالڈ کے اثاثوں کی قرقی سیاست میں نیا اوچھا پن: کپل سبل
تلنگانہ پر الیکشن کمیشن کی خصوصی نظر

الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کے خلاف ضابطہ ئ اخلاق کی خلاف ورزی کا پہلی مرتبہ نوٹ لیتے ہوئے جمعرات کے دن بی جے پی صدر جے پی نڈا سے جواب مانگا۔

کانگریس‘ سی پی آئی‘ سی پی آئی ایم ایل اور سیول سوسائٹی گروپس‘بانسواڑہ میں 21 اپریل کو مودی کے ریمارکس کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع ہوئے تھے۔

مودی نے الزام عائد کیا تھا کہ کانگریس عوام کی دولت مسلمانوں میں دوبارہ بانٹ دینا چاہتی ہے۔ اپوزیشن پارٹی عورتوں کا منگل سوتر تک چھین لینا چاہتی ہے۔

ایکس پر پوسٹ میں کپل سبل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مودی کو لال آنکھ نہیں دکھائی۔ اس کا بی جے پی سے جواب مانگنا بتاتا ہے کہ وہ بے بس کٹھ پتلی ہے۔

اس میں مودی کو نوٹس بھیجنے کی ہمت نہیں ہے۔ کانگریس کے سابق قائد نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن‘ بی جے پی سے جاملا ہے۔

کانگریس نے جمعرات کے دن دعویٰ کیا تھا کہ دباؤ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرنے پر مجبور کیا۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے کہا کہ بات جب وزیراعظم کی ہوتی ہے تو الیکشن کمیشن بہت زیادہ محتاط ہوجاتا ہے۔