تلنگانہ

فیس کنٹرول قانون فوری لایا جائے، تعلیم و علاج حکومت کی ذمہ داری: کے کویتا

سوماجی گوڑہ پریس کلب میں “معیاری تعلیم اور فیس کنٹرول” کے موضوع پر منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ تعلیم مساوات، آزادی اور انسانی اقدار کے فروغ کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا بچوں کی تعلیم صرف والدین کی ذمہ داری ہے یا حکومت کی بھی اس سلسلہ میں کوئی ذمہ داری بنتی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا (ٹی آر ایس) کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے ریاست میں اسکولی فیس میں بے تحاشہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فوری طور پر فیس کنٹرول قانون نافذ کرے تاکہ والدین کو راحت مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ مفت تعلیم اور مفت علاج عوام کا بنیادی حق ہے اور یہ ان کی جماعت کی بنیادی پالیسی بھی ہے۔

متعلقہ خبریں
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات

سوماجی گوڑہ پریس کلب میں “معیاری تعلیم اور فیس کنٹرول” کے موضوع پر منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ تعلیم مساوات، آزادی اور انسانی اقدار کے فروغ کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا بچوں کی تعلیم صرف والدین کی ذمہ داری ہے یا حکومت کی بھی اس سلسلہ میں کوئی ذمہ داری بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں اسکول فیس میں 50 فیصد سے لے کر 120 فیصد تک اضافہ کیا جا رہا ہے، لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ والدین شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مئی کے مہینے میں ہی فیس کنٹرول قانون لایا جائے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک روپیہ بھی فیس نہ بڑھانے کا حکم جاری کیا جائے۔

کویتا نے کہا کہ ریاست کے تقریباً 64 لاکھ طلبہ میں سے 65 تا 75 فیصد نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، جہاں تعلیم کو کاروبار بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بیشتر کارپوریٹ اسکول سیاسی شخصیات کے زیر اثر چل رہے ہیں اور والدین کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے حیدرآباد پبلک اسکول میں 120 فیصد فیس اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر سرکاری زمین پر قائم ادارے میں اتنا اضافہ ہوسکتا ہے تو دیگر نجی اداروں کی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت خود نجی تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، جس سے عوام مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔

کویتا نے مزید کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے تحت تقریباً 11 ہزار کروڑ روپے کے بقایا جات ہیں، جس کے باعث کئی کالج بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایم ایس-7 جی او کے ذریعے اس اسکیم کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خود وزیر تعلیم ہونا “بدقسمتی کی علامت” ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متنازعہ جی او واپس نہ لیا گیا تو تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر احتجاج کرنا پڑے گا۔

کویتا نے زور دے کر کہا کہ اگر حکومت میں اخلاص ہو تو مفت تعلیم اور علاج فراہم کرنا ممکن ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمل ناڈو کی طرز پر فیس کنٹرول کے لیے مستقل اتھارٹی قائم کی جائے یا گجرات ماڈل کے مطابق ابتدائی تعلیم کے لیے 15 ہزار اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 25 ہزار روپے کی حد مقرر کی جائے تاکہ عوام کو راحت مل سکے۔