برطانیہ کے وزیرِاعظم اسٹارمر سے پارٹی اراکینِ پارلیمنٹ نے عہدہ چھوڑنے کی اپیل کی
پیر کو آنے والی رپورٹ کے مطابق، کابینہ اراکین کی منگل کو ہونے والی ایک میٹنگ میں توقع ہے کہ مسٹر اسٹارمر سے کہا جائے گا کہ وہ عہدہ چھوڑ دیں۔ اراکین کو تشویش ہے کہ اب ان کی پوزیشن "برقرار رکھنے کے قابل نہیں" رہی۔
لندن: برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر سے کابینہ کے کئی سینئر اراکین، جن میں وزیرِ داخلہ شبانہ محمود اور وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر شامل ہیں، نے ان کے استعفیٰ کے وقت پر غور کرنے کو کہا ہے۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب لیبر پارٹی کے 80 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ نے مسٹر اسٹارمر سے عہدہ چھوڑنے کی اپیل کی۔
اخبار دی ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹ دی ہے۔
پیر کو آنے والی رپورٹ کے مطابق، کابینہ اراکین کی منگل کو ہونے والی ایک میٹنگ میں توقع ہے کہ مسٹر اسٹارمر سے کہا جائے گا کہ وہ عہدہ چھوڑ دیں۔ اراکین کو تشویش ہے کہ اب ان کی پوزیشن "برقرار رکھنے کے قابل نہیں” رہی۔
اس دوران برطانوی میڈیا نے بتایا کہ برطانیہ کی حکومت کے تین اراکین نے وزیرِاعظم اسٹارمر کے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
خبروں کے مطابق، ان استعفوں کا اعلان ماحولیاتی وزیر کے پارلیمانی نجی سیکریٹری ٹام رٹلینڈ، وزیرصحت کے نجی سکریٹری جو مورس اور کابینہ آفس کی معاون نوشابہ خان نے کیا۔
جمعرات کو برطانیہ میں علاقائی انتخابات منعقد ہوئے، جو 136 علاقوں میں ہوئے۔ حتمی نتائج کے مطابق، لیبر پارٹی نے کونسل کی ان 2,200 سے زائد نشستوں میں سے تقریباً 1,200 نشستیں کھو دیں، جن پر پہلے اس کا قبضہ تھا۔
دائیں بازو کی ’ریفارم یوکے‘ پارٹی واضح فاتح بن کر ابھری اور اس نے تقریباً 1,400 نشستیں جیتیں۔