یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ، عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ
ٹیڈروس نے کہا کہ ''تازہ کشیدگی کے بعد تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک، 4200 سے زائد زخمی اور تقریباً ایک لاکھ 98 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔'' انہوں نے ہیضہ اور خسرہ پھیلنے کے خطرے سے بھی خبردار کیا
عدن : عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے بدھ کو یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ”تباہ کن انسانی نقصان” سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی فورسز اور حوثی تحریک کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہورہی ہے اور ملک کا پہلے ہی کمزور صحت کا نظام مزید دباؤ میں آگیا ہے۔
ٹیڈروس نے کہا کہ ”تازہ کشیدگی کے بعد تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک، 4200 سے زائد زخمی اور تقریباً ایک لاکھ 98 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔” انہوں نے ہیضہ اور خسرہ پھیلنے کے خطرے سے بھی خبردار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ انسانی اور طبی ضروریات میں اضافے کے باعث ڈبلیو ایچ او کی فوری مالی ضرورت 90 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ہوگئی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی عطیہ دہندگان سے امداد میں اضافہ کرنے کی اپیل کی۔
تازہ کشیدگی کے نتیجے میں مغربی اور جنوبی یمن میں نئے محاذ کھل گئے ہیں، جن میں بحیرہ احمر کے اہم ساحلی علاقوں اور آبنائے باب المندب کے آس پاس کے علاقے بھی شامل ہیں۔
یمنی حکومتی فورسز نے مغربی ساحلی علاقے میں پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے، جس میں اہم بندرگاہی شہر موخا اور آبنائے باب المندب کے قریب واقع شہر ذباب کے بعض علاقوں پر دوبارہ قبضہ بھی شامل ہے۔ حوثیوں نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی فورسز میدانِ جنگ میں اپنی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہی ہیں۔
تعز صوبے میں بھی حکومت نواز فورسز نے حوثی ٹھکانوں پر حملوں کی اطلاع دی ہے۔ یہ کارروائیاں علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی وسیع تر فوجی مہم کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ حوثیوں نے لحج میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف درجنوں حملے کیے ہیں۔ ان کے دعوے کے مطابق ان حملوں میں 200 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
کشیدگی میں سعودی عرب سے متعلق سرحد پار حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حوثیوں نے ریاض سمیت سعودی علاقوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے جواباً یمن میں حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران ان کے زیر قبضہ علاقوں پر سعودی عرب نے 66 فضائی اور میزائل حملے کیے، جس کے بعد تازہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک ایسے حملوں کی تعداد ان کے مطابق 1642 ہوگئی ہے۔ ان اعداد و شمار کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
صنعا کے اوپر دھماکوں اور جنگی طیاروں کی سرگرمیوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی فضائی حملوں میں دارالحکومت صنعا کے علاوہ عمران، صعدہ اور الجوف صوبوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی اہم بحری گزرگاہ آبنائے باب المندب کی سلامتی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔