یو اے ای کی عدم اتفاق کے بعد فرانس تنہا ہی رافیل ایف 5 لڑاکا طیارے بنانے کا خرچ برداشت کرے گا
کہا جا رہا ہے کہ یو اے ای اس پروجیکٹ میں فعال طور پر حصہ لینا چاہتا تھا، جبکہ فرانسیسی فریق نے محتاط غور و خوض کے بعد یو اے ای کو اس کی ترقی، خاص طور پر 'آپٹو الیکٹرانکس' کے شعبے میں رسائی فراہم کرنے کے خلاف فیصلہ کیا۔ جس کے بعد یو اے ای اس پروجیکٹ سے پیچھے ہٹ گیا۔
پیرس: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے فرانس کو اپنے رافیل ایف 5 لڑاکا طیارہ پروجیکٹ کی مالی اعانت اکیلے ہی کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا فرانسیسی اخبار ‘لا ٹریبیون’ کی جمعرات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرانس کی درخواست پر، یو اے ای گزشتہ سال کے آخر تک لڑاکا طیاروں کی جدید کاری کے لیے تقریباً پانچ ارب یورو (5.4 ارب ڈالر) کے کل بجٹ میں سے 3.5 ارب یورو کی مالی مدد دینے کے لیے تیار تھا۔
رپورٹ کے مطابق، یو اے ای شروع میں اس پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کرنے کا خواہش مند تھا لیکن دونوں فریق اپنی شمولیت کے حوالے سے تذبذب کا شکار رہے۔
کہا جا رہا ہے کہ یو اے ای اس پروجیکٹ میں فعال طور پر حصہ لینا چاہتا تھا، جبکہ فرانسیسی فریق نے محتاط غور و خوض کے بعد یو اے ای کو اس کی ترقی، خاص طور پر ‘آپٹو الیکٹرانکس’ کے شعبے میں رسائی فراہم کرنے کے خلاف فیصلہ کیا۔ جس کے بعد یو اے ای اس پروجیکٹ سے پیچھے ہٹ گیا۔
رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں رافیل ایف 5 کے لیے مستقبل کی مالی اعانت ممکنہ طور پر طویل کھینچ جائے گی اور اس کی فراہمی میں تاخیر ہوگی۔
وہیں، کئی ذرائع کے مطابق، فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ یو اے ای 2027 کے بعد رافیل ایف 5 پروجیکٹ پر مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا یا نہیں۔