حیدرآباد

پولیس کا نرم رویہ‘ راتوں میں پان شاپس‘ ہوٹلوں کے قریب رونقیں بحال

علاقوں میں رات دیرگئے ہوٹلیں اورپان شاپس کھلے رکھے جارہے ہیں۔ان اداروں میں پچھلے دروازے سے کاروبار جاری ہے اورغیرسماجی اورغنڈہ عناصر ان ہوٹلس اورپان شاپس کے پاس کھڑے رہتے ہیں۔

حیدرآباد: شہر میں میلادالنبیؐ اور گنیش تہوار کے پرامن انصرام کے بعد پولیس تھکان دور کرنے میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔ اسی لئے رات دیرگئے شہر میں ہوٹلیں اورپان شاپس کھلے رہے ہیں جبکہ ریاست میں بہت جلداسمبلی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔

متعلقہ خبریں
پرانے شہر میں پولیس کا فلیگ مارچ
میڈیکل و پان شاپس مالکان کو انتباہ
دیر رات تک پان شاپ کھلی رکھنے پر جرمانہ۔ پولیس کی کارروائی
لٹیرا گرفتار‘9.5 لاکھ روپئے برآمد جوبلی ہلزپولیس کی کاروائی
پلوامہ میں کشمیری پنڈت سنجئے شرما کو گولی مارکر ہلاک کردیاگیا

 ان حالات میں پولیس کوہمہ وقت چوکسی اختیارکرنے کی ضرورت ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں رات دیرگئے ہوٹلیں اورپان شاپس کھلے رکھے جارہے ہیں۔ان اداروں میں پچھلے دروازے سے کاروبار جاری ہے اورغیرسماجی اورغنڈہ عناصر ان ہوٹلس اورپان شاپس کے پاس کھڑے رہتے ہیں۔

 پولیس کوچاہئے کہ سب سے پہلے رات دیرگئے ہوٹلوں کے پاس پارک گاڑیوں کوضبط کرے کیونکہ قریب میں گاڑیاں پارک کی جاتی ہیں۔پولیس اگرہوٹلوں کے قریب پارک گاڑیوں پر چالانات کرتی ہے توپھردوسرے دن سے ہی گاہک راتوں میں ہوٹل نہیں آئیں گے۔

رات دیرگئے ہوٹلس بندکروانے پولیس کایہ آسان طریقہ ہے اور گلی کوچوں میں اکثر رات دیرگئے غیر سماجی عناصر اور روڈی شیٹرس جمع رہتے ہیں اس کے لئے پولیس کوچاہئے کہ بلوکوٹس کی پٹرولنگ میں شدت پیدا کریں اوراگر پولیس والے خود رات دیرگئے ہوٹلوں اور پان شاپس سے چائے‘پان‘سگریٹ لیتے ہیں تو عوام میں پولیس کا کیاخوف رہے گا۔

پولیس والوں کوخوداپنا خوف عوام میں پیدا کرناچاہئے۔چائے پان سگریٹ منگوانے سے پولیس کا وقار کم ہوجائے گا۔پولیس پٹرولنگ بڑھانے کی ضرورت ہے اور انتخابات کے پیش نظر تھوڑی سختی بھی ضروری ہے۔ پولیس کی ڈھیل کا شرپسندعناصر فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔