ادبی

حیدرآباد کی اردو ادبی محفلیں قابل قدر و قابل ستائش – شعراکے کلام میں عمدگی

ایوان احمد میں خیر مقدمی تقریب سے خورشید حیدر اور ضیا ٹونکی کا خطاب پروفیسر مسعود احمد کی جستجو کی ستائش - ممتاز شعرا نے کلام سنایا

ایوان احمد میں خیر مقدمی تقریب سے خورشید حیدر اور ضیا ٹونکی کا خطاب پروفیسر مسعود احمد کی جستجو کی ستائش – ممتاز شعرا نے کلام سنایا

حیدرآباد : اردو ادب کی محفلیں پابندی سے منعقد کرنا اور شعراء کرام کی صلاحیتوں سے اردو والوں کواستفادہ کرانا وقت کاتقاضہ ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کی محفلوں اور شعری نشستوں سے نئی نسل کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں جوڑا جائے حیدرآباد میں اردو زبان سے متعلق جو کام ہو رہا ہے وہ قابل اطمینان ہے حیدرآباد میں اردو زبان کی محفلیں روزانہ اور خوب سجتی ہیں جس پر ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے شعرا کے کلام میں بھی بڑی عمدگی پائی جاتی ہے

ان خیالات کا اظہار ٹونک (راجستھان) کے ممتاز و معروف شاعر ضیا ٹونکی (ضیاء الرحمن) نے کیا وہ رباط محبان اردو علی عبداللہ انکلیو ملک پیٹ حیدرآباد میں "ایک شام شعرا کے نام” محفل سے بحیثیت مہمان شاعر خطاب کر رہے تھے جناب ضیا ٹونکی نے کہا کہ اردو کی محفلیں اردو زبان و ادب کو زندہ رکھنے میں معاون ہوتی ہیں انہوں نے ممتازشاعر وپروفیسر مسعود احمد کی شعری و ادبی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان اور ادب سے متعلق پروفیسر مسعود احمد میں خدمت کا جذبہ موجود ہے ان کی بے شمار صلاحیتوں اور اردو سے متعلق محنتوں کو میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں انہوں نے زبان کی بقا کے لیے اردو والوں کو مشورہ دیا کہ وہ بول چال میں اردو کے الفاظ کا کثرت سے استعمال کریں اور اپنے بچوں کو لازمی طور پر لکھنا اور پڑھنا بھی سکھائیں

جناب خورشید حیدر نے بھی بحیثیت مہمان شاعر خطاب کیا اور کہا کہ یہ بہت بڑی بات ہے کہ ایوان احمد میں ہر ہفتہ اردو کی ایک محفل بہ عنوان "محفل عصرانہ” سجائی جاتی ہے آج کے دور میں ادبی محفلیں سجانا شعراکو یکجا کرنا اور پھر مہمان نوازی یہ بہت بڑی بات ہے انہوں نے سماج میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور لاقانونیت پر بھی اظہار افسوس کیا اور کہا کہ مدارس میں اخلاقی تعلیم کا روزا نہ ایک گھنٹہ ضرور مقرر کیا جائے تاکہ طلباء صرف نصابی تعلیم حاصل کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے اساتذہ’ والدین ‘رشتہ داروں اور سبھی کے اداب سے بھی واقف ہوں اور چھوٹوں سے شفقت کے ساتھ پیش آئیں.

اس محفل کی صدارت ممتاز و معروف گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار شاعر انجن کمار گویل نے کی ڈاکٹر فاروق شکیل نے اپنے ایک پیام کے ذریعے اس محفل کے انعقاد پر اور بالخصوص خورشید حیدر اور جناب ضیا ٹو‌نکی کی خدمات کو خراج تحسین ادا کیا بانی محفل پروفیسر محمد مسعود احمد چیف آپریٹنگ آفیسر رینووا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ نے کہا کہ ایوان احمد کو شعری’ ادبی ‘علمی’ تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے وقف کر دیا گیا ہے یہاں ہر منگل کو محفل عصرانہ منعقد کی جاتی ہے ہر ماہ کے آخری منگل کی محفل عصرانہ کو خواتین کے لیے مختص کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ ایوان احمد میں مختلف مذہبی محافل اور ادبی محافل بھی منعقد کیے جا رہے ہیں انہوں نے جناب خورشید حیدر اور جناب ضیا ٹونکی کی شعری صلاحیتوں کو خراج تحسین ادا کیا اور کہا کہ یہ شعراء اپنے اپنے اسمان کے روشن ستارے ہیں ان ستاروں کی چمک سے شنعرا برادری اور اردو عوام کا ایک قابل لحاظ طبقہ روشن و منور ہے .

محفل کے مہمان خصوصی جناب منور حسین صدر بزم احمد حسین نے بھی پروفیسر مسعود احمد کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور جناب خورشید حیدر وضیا ٹونکی کی شعری خدمات کی بھرپور ستائش کی جناب جہانگیر قیاس نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایوان اردو میں منعقد ہونے والی محافل سے نئے نئے شعراء سے ملاقات اور ان کے کلام سے محظوظ ہونے کا موقع مل رہا ہے انہوں نے اس سلسلے میں پروفیسر مسعود احمد کو مبارکباد دی اور کہا کہ ان محافل سے شعری و ادبی حلقوں کو مزید مستحکم اور آپس میں مل بیٹھنے کا موقع فراہم ہو رہا ہے

جناب لطیف الدین لطیف نے روایتی طور پر نہایت ہی عمدگی کے ساتھ کاروائی چلائی اور ان دو مہمان شعراء کے علاوہ تمام حاضرین وہ شعراء کرام کا دلی خیر مقدم کیا اور کہا کہ ایوان احمد میں اعزازی، تہنیتی ” و تعزیتی نشستیں ہونے کے ساتھ ساتھ مہمان شعرااور ادیبوں کو تہنیت پیش کی جاتی ہے انہوں نے اس سلسلے میں پروفیسر محمد مسعود احمد کی جستجو اور کوششوں کو قابل تحسین اور لائق تقلید قرار دیا صدر مشاعرہ انجنی کمار کی صدارت میں مشاعرہ منعقد ہوا صدر مشاعرہ کے علاوہ جناب فرید سحر’ جناب طاہر گلشن آبادی ‘ جناب ظفر فاروقی ‘پروفیسر محمد مسعود احمد’ امین الدین انصاری’ جہانگیر قیاس ‘سہیل عظیم ‘سلیمان صدیقی اعتبار ” ثنا اللہ انصاری وصفی اور رفیق جگر کے علاوہ ممتاز شاعرات محترمہ ارجمند بانو اور محترمہ صبیحہ تبسم نے کلام سنایا جناب محمد حسام الدین ریاض نے شکریہ ادا کیا اس موقع پر جناب محمد عارف اور ڈاکٹر عبدالغنی بھی موجود تھے