حیدرآباد

محنت، دیانت اور خدمتِ خلق کبھی ریٹائرمنٹ نہیں ہوتیں جلسۂ اعترافِ خدمات سے مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

ریٹائرمنٹ کے جذبات ہر شخص کے لیے یکساں نہیں ہوتے۔ کوئی اس لیے افسردہ ہوتا ہے کہ اب وہ عوام کو وہ راحت اور آسانی فراہم نہیں کرسکے گا جو دورانِ ملازمت اس کے اختیار میں تھی

حیدرآباد : حیدرآباد زندگی ایک مسلسل سفر کا نام ہے؛ انسان مختلف مراحل، ذمہ داریوں اور تجربات سے گزرتا ہوا ایک مقام پر پہنچتا ہے جہاں اسے اپنے منصب اور رسمی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونا پڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جس طرح شادیوں کا ایک موسم آتا ہے، اسی طرح گزشتہ چند برسوں سے ریٹائرمنٹ کا موسم بھی نمایاں محسوس ہونے لگا ہے۔ بہت سے ملازمین اپنی طویل مدتِ ملازمت مکمل کرکے رخصت ہو رہے ہیں۔ کوئی آنکھوں میں نمی لیے اپنے ساتھیوں سے الوداع کہتا ہے اور کوئی مسکراتے ہوئے زندگی کے نئے باب میں قدم رکھتا ہے؛ مگر ہر سبکدوشی اپنے دامن میں یادوں، تجربات، جذبات اور ان گنت داستانوں کا ایک پورا جہان لیے ہوتی ہے۔ملازمت سے سبکدوشی بظاہر ایک عہدے، کرسی اور دفتر سے جدائی کا نام ہے، لیکن حقیقت میں یہ انسان کی زندگی کے ایک اہم دور کی تکمیل ہوتی ہے۔ کل تک جس دروازے پر آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا تھا، جہاں ماتحت عملہ اور سائلین اپنی ضرورتیں لے کر حاضر ہوتے تھے، جہاں اختیارات اور ذمہ داریوں کا ایک مخصوص نظام موجود تھا، آج وہ سب پیچھے رہ جاتا ہے۔ اب نہ وہ روزمرہ کی مصروفیات رہتی ہیں، نہ دفتر کی گہماگہمی، نہ ماتحت عملے کی آمد و رفت اور نہ ہی منصب سے وابستہ وہ سہولتیں جو دورانِ ملازمت زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اب ضروریات بھی اپنی آمدنی سے پوری کرنی ہوتی ہیں اور وقت کا بیشتر حصہ انسان کو خود اپنے لیے ترتیب دینا پڑتا ہے۔

لیکن ریٹائرمنٹ کے جذبات ہر شخص کے لیے یکساں نہیں ہوتے۔ کوئی اس لیے افسردہ ہوتا ہے کہ اب وہ عوام کو وہ راحت اور آسانی فراہم نہیں کرسکے گا جو دورانِ ملازمت اس کے اختیار میں تھی؛ کوئی اس فکر میں مبتلا ہوتا ہے کہ محدود پنشن میں گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؛ کسی کے بچے جوان ہوچکے ہوتے ہیں مگر روزگار سے محروم ہوتے ہیں اور ان کے مستقبل کی فکر دامن گیر رہتی ہے؛ کسی کو بیٹی کی شادی کے اخراجات کی فکر ستاتی ہے، تو کوئی اس سوچ میں ڈوبا ہوتا ہے کہ ملازمت کے بعد زندگی کس نئے انداز سے آگے بڑھے گی۔ یوں سبکدوشی صرف ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ انسانی جذبات، معاشی حالات، یادوں اور مستقبل کی امیدوں سے جڑا ہوا ایک حساس مرحلہ ہے۔

تاہم زندگی کے سفر میں بعض منزلیں ایسی بھی ہوتی ہیں جہاں انسان اپنی رسمی ذمہ داریوں سے سبکدوش تو ہوجاتا ہے، مگر اس کی محنت، دیانت، خلوص، تجربہ، حسنِ کردار اور خدمت کے نقوش کبھی مٹ نہیں سکتے۔ انسان کسی عہدے سے ریٹائر ہوسکتا ہے، مگر خدمت سے نہیں؛ منصب ختم ہوسکتا ہے، مگر مخلصانہ کردار کبھی سبکدوش نہیں ہوتا۔
چیئرمین لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج صدر دفتر، بنجارہ ہلز، روڈ نمبر 12، حیدرآباد میں منعقدہ جلسۂ اعترافِ خدمات و سبکدوشی ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ادارے کی کامیابی اور ترقی کے پسِ پشت اس کے مخلص، محنتی، فرض شناس اور ذمہ دار ملازمین کی بے لوث خدمات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ادارے کی عمارتیں، وسائل اور انتظامی ڈھانچہ اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، لیکن کسی ادارے کی اصل قوت اس کے وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنے فرائض کو محض ملازمت نہیں بلکہ ذمہ داری، امانت اور خدمت کے جذبے کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برسوں تک ادارے کی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھانے والے ملازمین کی خدمات کا اعتراف دراصل ان کی محنت، دیانت، وفاداری اور اخلاص کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ ایسے افراد اپنی عملی زندگی کے ذریعے ادارے کے نظم و ضبط، کارکردگی اور وقار کو مضبوط بناتے ہیں۔ ان کی خدمات کا اثر صرف ان کے دورِ ملازمت تک محدود نہیں رہتا بلکہ ان کے تجربات، روایات اور اچھے کردار آنے والی نسل کے لیے مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ ملازمت کا منصب وقتی ہوتا ہے، مگر خدمت کا کردار دائمی ہوتا ہے۔ کسی شخص کی اصل عظمت اس کے عہدے، اختیار یا منصب سے نہیں بلکہ اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داری کو کس قدر اخلاص، دیانت اور احساسِ فرض کے ساتھ انجام دیا۔ جو لوگ اپنے منصب کو امانت سمجھ کر نبھاتے ہیں، وہ اپنے بعد بھی ادارے میں ایک روشن روایت چھوڑ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سبکدوش ہونے والے ملازمین نے اپنی زندگی کا ایک قیمتی حصہ ادارے اور عوامی خدمت کے لیے وقف کیا ہے، جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں، وقت اور توانائی کو ادارے کی بہتری کے لیے صرف کیا اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ذریعے ادارے کی کارکردگی اور استحکام میں اپنا حصہ ادا کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، تجربہ، نظم و ضبط، خوش اخلاقی اور احساسِ ذمہ داری آنے والی نسلوں کے لیے قابلِ تقلید مثال ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اعترافِ خدمات کی تقریبات محض رسمی اجتماعات نہیں بلکہ ادارے کی تہذیبی اور اخلاقی روایت کی علامت ہوتی ہیں۔ جب کسی ادارے میں اپنے محسنوں اور سابق ملازمین کی خدمات کو یاد کیا جاتا ہے تو نہ صرف ان افراد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ موجودہ ملازمین میں بھی احساسِ ذمہ داری، وابستگی اور خدمت کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔ ایسے مواقع نئی نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ محنت، دیانت اور وفاداری کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔

چیئرمین لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے کہا کہ زبان، تعلیم اور تہذیب سے وابستہ اداروں کی ذمہ داری عام اداروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ یہ ادارے معاشرے کی فکری، علمی اور تہذیبی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ زبانیں محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ، ثقافت، اقدار اور نسلوں کے درمیان رابطے کا مضبوط ذریعہ ہیں۔ ایسے اداروں سے وابستہ ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی خدمات کو وسیع تر قومی اور سماجی مفاد کے تناظر میں انجام دے۔
انہوں نے کہا کہ سبکدوش ملازمین کا سب سے قیمتی سرمایہ ان کا تجربہ ہے۔ وقت کے ساتھ حاصل ہونے والا تجربہ صرف کتابوں سے نہیں ملتا بلکہ عملی زندگی کے نشیب و فراز، کامیابیوں، مشکلات اور مشاہدات سے جنم لیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ادارے اپنے سابق ملازمین کے تجربات اور مشاہدات سے استفادہ کرنے کے لیے مناسب مواقع پیدا کریں، تاکہ ان کی علمی، انتظامی اور عملی بصیرت نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکے۔

مولانا نے کہا کہ آج کے دور میں نوجوان نسل کو محض تعلیمی اسناد ہی نہیں بلکہ تجربہ کار افراد کی رہنمائی، اخلاقی تربیت، عملی مشاہدات اور پیشہ ورانہ اصولوں سے بھی استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سبکدوش ملازمین اپنے تجربات نئی نسل تک منتقل کرکے ایک عظیم قومی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔ ان کی زندگی کا سفر نوجوانوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ کامیابی صرف منصب حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری کو دیانت داری سے نبھانے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین عوامی وسائل اور قومی خزانے سے وابستہ ایک اہم ذمہ داری ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے فرائض کو امانت اور احساسِ جواب دہی کے ساتھ انجام دیں۔ وقت کی پابندی، دیانت داری، حسنِ سلوک، عوام کے ساتھ خوش اخلاقی، خدمت کا جذبہ اور فرائض میں غفلت سے اجتناب ایک مثالی سرکاری ملازم کی بنیادی صفات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ادارے میں آنے والے نئے ملازمین کو چاہیے کہ وہ اپنے سینئر اور تجربہ کار ساتھیوں سے سیکھیں، ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور ادارے کی اچھی روایات کو آگے بڑھائیں۔ اسی طرح سینئر ملازمین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علم و تجربے کو اپنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ نئی نسل کی تربیت اور رہنمائی میں اپنا کردار ادا کریں۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے سبکدوش ہونے والے ملازمین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ادارہ ان کی محنتوں، اخلاص اور تعاون کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا یہ اجتماع ان ملازمین کے لیے محبت، احترام اور تشکر کا اظہار ہے، جنہوں نے اپنی عملی زندگی کا ایک بڑا حصہ ادارے کی خدمت میں گزارا۔
انہوں نے سبکدوش ملازمین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آج آپ ملازمت سے سبکدوش ہورہے ہیں، خدمت سے نہیں۔ زندگی کا یہ نیا مرحلہ آپ کو اپنے تجربات کو مزید وسیع پیمانے پر استعمال کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آپ اپنے اہلِ خانہ، معاشرے اور نئی نسل کے لیے اپنی علمی و عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک نئی، بامقصد اور باوقار زندگی کا آغاز کرسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انسان کے پاس سب سے بڑا سرمایہ اس کا وقت، تجربہ اور صلاحیت ہے۔ اگر ان نعمتوں کو مثبت اور تعمیری انداز میں استعمال کیا جائے تو زندگی کا یہ مرحلہ نہایت بامقصد، پرسکون اور مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ سبکدوش ملازمین مطالعہ، سماجی خدمت، تعلیمی رہنمائی، فلاحی سرگرمیوں اور نئی نسل کی تربیت کے ذریعے معاشرے سے اپنا تعلق مزید مضبوط رکھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو یاد رکھتا ہے، اپنے بزرگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتا ہے اور نئی نسل کی تربیت میں تجربہ کار افراد کو شریک کرتا ہے۔ اعترافِ خدمات کی ایسی تقریبات دراصل اسی تہذیبی روایت کو زندہ رکھنے کی ایک خوبصورت کوشش ہیں۔اس موقع پر سبکدوش ہونے والے ملازمین کی طویل، مخلصانہ اور قابلِ قدر خدمات کو سراہا گیا اور ان کے لیے تہنیتی کلمات پیش کیے گئے۔ مقررین نے کہا کہ ادارے کی ترقی، استحکام اور کامیابی میں ان ملازمین کی محنت، تعاون اور خدمات کو ہمیشہ قدر و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ سبکدوش ملازمین نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ادارے سے وابستہ اپنی یادوں، تجربات اور خدمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے سبکدوش ہونے والے ملازمین کے لیے صحت، عافیت، خوش حالی، عزت، سکون اور بامقصد زندگی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کی سابقہ خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور زندگی کے اس نئے مرحلے میں انہیں مزید خیر، برکت، خوشی اور اطمینان نصیب فرمائے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن زبانوں کے فروغ، تعلیمی ترقی، تہذیبی اقدار کے تحفظ اور نئی نسل تک علمی و لسانی سرمایہ منتقل کرنے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی، کیونکہ علم، زبان اور خدمتِ خلق وہ چراغ ہیں جن کی روشنی ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔
یہ نسخہ اخباری پریس ریلیز کے لیے زیادہ مربوط، ادبی اور باوقار رکھا گیا ہے، جبکہ آپ کے اصل خیالات—خصوصاً ریٹائرمنٹ کے انسانی، معاشی اور جذباتی پہلو—کو برقرار رکھا گیا ہے۔