مشرق وسطیٰ

غزہ میں تباہی کی ہولناک صورت حال: عمارتوں کے ملبے تلے 8 ہزار لاشیں دبے ہونے کا خدشہ

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ نے غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ جاری کی، جس میں بتایا گیا ہے کہ انسانی المیہ اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔

نیویارک: اقوام متحدہ نے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہ عمارتوں کے ملبے میں 8 ہزار لاشیں دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا۔

متعلقہ خبریں
اسرائیلی حملہ میں لبنان میں 20 اور شمالی غزہ میں 17 جاں بحق
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جنگ بندی میں توسیع، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
بنگلہ دیش میں ایندھن کی قیمتوں میں زبردست اضافہ
بحرین نے ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو حراست میں لیا


تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ نے غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ جاری کی، جس میں بتایا گیا ہے کہ انسانی المیہ اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔

اقوام متحدہ نے انکشاف کیا غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے کم از کم 8 ہزار لاشیں دبے ہونے کا خدشہ ہے۔


رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں دو سالہ جنگ کے بعد ملبہ ہٹانے کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے اور اب تک صرف ایک فیصد کام ہی مکمل ہو سکا ہے، موجودہ حالات اور وسائل کے مطابق اس تمام ملبے کو ہٹانے میں 7 سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

فلسطینی سول ڈیفنس حکام کو ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، امدادی ٹیموں کے پاس بھاری مشینری اور ضروری آلات کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے ملبے تلے دبے افراد تک پہنچنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی تعاون اور مشینری کی عدم دستیابی کے باعث امدادی کارروائیاں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔


اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق غزہ کا 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس میں رہائشی مکانات، اسکول، ہسپتال اور سڑکیں شامل ہیں، غزہ کو دوبارہ بسانے اور تباہ شدہ ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 70 ارب ڈالر کے خطیر فنڈز کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین ہونے سے بچانے کے لیے فوری طور پر امدادی مشینری فراہم کی جائے اور تعمیرِ نو کے عمل کو شروع کرنے کے لیے فنڈز کا انتظام کیا جائے۔