حیدرآباد

موسیٰ فلڈ پلین پر غیر قانونی اسکول کی عمارت مسمار، 250 سے زائد طلبہ کا مستقبل غیر یقینی

حکام کے مطابق "دی بامبینی کریک" اسکول کی عمارت تقریباً ایک ایکڑ سرکاری اراضی پر تعمیر کی گئی تھی، جو موسیٰ ندی کے فلڈ پلین کے دائرے میں آتی ہے۔ تحقیقات کے بعد یہ پایا گیا کہ اسکول متعلقہ قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چلایا جا رہا تھا، جس کے بعد انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے نارسنگی علاقے میں موسیٰ ندی کے فلڈ پلین پر مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ایک نجی اسکول عمارت کو محکمہ ریونیو کے عہدیداروں نے اتوار کے روز مسمار کر دیا۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
جماعتِ اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد ویمنز ونگ کے زیرِ اہتمام صحافیوں اور این جی اوز کا اجلاس
نعتیہ کلام دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے منور کرتا ہے: سعداللہ خان سبیل

حکام کے مطابق "دی بامبینی کریک” اسکول کی عمارت تقریباً ایک ایکڑ سرکاری اراضی پر تعمیر کی گئی تھی، جو موسیٰ ندی کے فلڈ پلین کے دائرے میں آتی ہے۔ تحقیقات کے بعد یہ پایا گیا کہ اسکول متعلقہ قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چلایا جا رہا تھا، جس کے بعد انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فلڈ پلین علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات نہ صرف ماحولیاتی توازن کو متاثر کرتی ہیں بلکہ بارشوں اور سیلاب کے دوران عوامی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔ اسی مقصد کے تحت حکومت نے ایسے قبضوں اور غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔

دوسری جانب اسکول کی عمارت مسمار کیے جانے سے والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسکول میں 250 سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور والدین نے بچوں کی تعلیم متاثر ہونے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ کئی والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری رہے گی، جبکہ موسیٰ فلڈ پلین میں موجود دیگر غیر قانونی تعمیرات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔