موسیٰ فلڈ پلین پر غیر قانونی اسکول کی عمارت مسمار، 250 سے زائد طلبہ کا مستقبل غیر یقینی
حکام کے مطابق "دی بامبینی کریک" اسکول کی عمارت تقریباً ایک ایکڑ سرکاری اراضی پر تعمیر کی گئی تھی، جو موسیٰ ندی کے فلڈ پلین کے دائرے میں آتی ہے۔ تحقیقات کے بعد یہ پایا گیا کہ اسکول متعلقہ قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چلایا جا رہا تھا، جس کے بعد انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
حیدرآباد: حیدرآباد کے نارسنگی علاقے میں موسیٰ ندی کے فلڈ پلین پر مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ایک نجی اسکول عمارت کو محکمہ ریونیو کے عہدیداروں نے اتوار کے روز مسمار کر دیا۔
حکام کے مطابق "دی بامبینی کریک” اسکول کی عمارت تقریباً ایک ایکڑ سرکاری اراضی پر تعمیر کی گئی تھی، جو موسیٰ ندی کے فلڈ پلین کے دائرے میں آتی ہے۔ تحقیقات کے بعد یہ پایا گیا کہ اسکول متعلقہ قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چلایا جا رہا تھا، جس کے بعد انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فلڈ پلین علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات نہ صرف ماحولیاتی توازن کو متاثر کرتی ہیں بلکہ بارشوں اور سیلاب کے دوران عوامی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔ اسی مقصد کے تحت حکومت نے ایسے قبضوں اور غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔
دوسری جانب اسکول کی عمارت مسمار کیے جانے سے والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسکول میں 250 سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور والدین نے بچوں کی تعلیم متاثر ہونے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ کئی والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری رہے گی، جبکہ موسیٰ فلڈ پلین میں موجود دیگر غیر قانونی تعمیرات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔