فاطمہ اویسی کیمپس معاملہ، تلنگانہ ہائی کورٹ کی سخت کارروائی، پانچ سینئر عہدیداروں کو توہینِ عدالت کے نوٹس
اس معاملے کی اگلی سماعت 11 اگست کو مقرر کی گئی ہے۔ اس سماعت میں متعلقہ عہدیدار اپنے جوابات پیش کریں گے، جس کے بعد عدالت سالکم چیروو کی اراضی، ایف ٹی ایل کی حد بندی اور سابقہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق معاملے کا مزید جائزہ لے گی۔
حیدرآباد: سالکم چیروو میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات سے متعلق فاطمہ اویسی ایجوکیشنل کیمپس کے معاملے میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے پانچ سینئر سرکاری عہدیداروں کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کیے ہیں۔ عدالت نے سابقہ احکامات پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے اور سالکم چیروو کی اراضی، فل ٹینک لیول اور بفر زون سے متعلق مکمل معلومات عدالت کے سامنے پیش نہ کیے جانے پر عہدیداروں سے جواب طلب کیا ہے۔
توہینِ عدالت کے نوٹس محکمہ بلدی نظم و نسق کے اسپیشل چیف سکریٹری جےش رنجن، ہائیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ، محکمہ تعلیم کی پرنسپل سکریٹری یوگیتا رانا، محکمہ آبپاشی و کمانڈ ایریا ڈیولپمنٹ کے پرنسپل سکریٹری ای سری دھر اور محکمہ ریونیو کے پرنسپل سکریٹری لوکیش کمار کو جاری کیے گئے ہیں۔ عدالت نے حیدرآباد ضلع کلکٹر کو بھی اس کارروائی میں فریق بنانے کی اجازت دی ہے۔
یہ معاملہ حیدرآباد کے بندلہ گوڑہ علاقے میں واقع سالکم چیروو سے متعلق ہے، جہاں بیرسٹر فاطمہ اویسی ایجوکیشنل کیمپس قائم ہے۔ یہ ادارہ سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کے تحت چلایا جاتا ہے۔
ایڈوکیٹ وجے گوپال کی جانب سے دائر کی گئی توہینِ عدالت کی درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ عدالت کے سابقہ احکامات کے باوجود متعلقہ سرکاری محکموں نے سالکم چیروو کی حدود، فل ٹینک لیول، بفر زون اور وہاں موجود تعمیرات سے متعلق مطلوبہ مکمل رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کی۔
عدالت نے 30 اپریل کو متعلقہ محکموں کو سالکم چیروو کے فل ٹینک لیول اور بفر زون کا مشترکہ سروے کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے جھیل کے علاقے میں موجود تعمیرات، ان کی اجازت اور متعلقہ سرکاری منظوریوں کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔
اس معاملے میں حکومت کی جانب سے جولائی میں ہائی کورٹ کے سامنے اپنا موقف پیش کیا گیا تھا کہ سالکم چیروو کے فل ٹینک لیول کے اندر کوئی تعمیر نہیں ہوئی اور فاطمہ اویسی تعلیمی ادارہ ایف ٹی ایل کی حدود میں واقع نہیں ہے۔ حکومت نے عدالت کو یہ بھی بتایا تھا کہ جھیل کے اطراف مشن کاکتیہ کے تحت رنگ بند تعمیر کیا گیا ہے۔
تاہم سالکم چیروو کی ایف ٹی ایل حدود اور اراضی کے ریکارڈ سے متعلق مختلف سرکاری معلومات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ عدالت میں بعض سابقہ ریکارڈز اور 2016 کی ایف ٹی ایل اطلاع کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں ادارے کے مقام کو جھیل کے ایف ٹی ایل علاقے سے جوڑے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ بعد کے سرکاری سروے میں اس کے برعکس موقف سامنے آنے پر ایف ٹی ایل کی درست حد بندی پر سوالات اٹھے ہیں۔
درخواست گزار وجے گوپال کا دعویٰ ہے کہ سالکم چیروو کے سروے نمبر 62 کی پوری اراضی کو سابقہ عدالتی فیصلوں میں جھیل کی سرکاری اراضی قرار دیا جاچکا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اس کے باوجود بعد میں پیش کیے گئے بعض سرکاری ریکارڈ میں سروے نمبر 62 کے کچھ حصوں کو ایف ٹی ایل سے باہر ظاہر کیا گیا۔
درخواست گزار نے عدالت کے سامنے 1988 کے لینڈ گرابنگ کیس کے علاوہ 1997 اور 2010 کے عدالتی معاملات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سروے نمبر 62 کی اراضی کے بارے میں سابقہ عدالتی موقف پہلے ہی واضح کیا جاچکا ہے۔
دوسری جانب، فاطمہ اویسی تعلیمی ادارے سے متعلق تعلیمی اجازتوں کا معاملہ بھی عدالت کے سامنے زیر بحث آچکا ہے۔ محکمہ تعلیم نے جولائی میں عدالت کو بتایا تھا کہ 2026-27 کے تعلیمی سال کے لیے متنازعہ مقام پر پہلی سے دسویں جماعت تک تعلیم جاری رکھنے کی اجازت محکمہ کی جانب سے نہیں دی گئی تھی۔
اس سے قبل اپریل میں ہائی کورٹ نے فاطمہ اویسی ایجوکیشنل کیمپس میں 2026-27 کے داخلوں کو بھی زیر سماعت معاملے کے حتمی فیصلے سے مشروط کیا تھا اور طلبہ و والدین کو معاملے کی قانونی صورتحال سے آگاہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔
تازہ کارروائی میں عدالت نے پانچ سینئر عہدیداروں کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ تاہم عدالت نے ابھی یہ حتمی فیصلہ نہیں دیا کہ فاطمہ اویسی ایجوکیشنل کیمپس کی تعمیر غیر قانونی ہے یا یہ یقینی طور پر سالکم چیروو کے فل ٹینک لیول کے اندر واقع ہے۔
فی الحال عدالت کے سامنے بنیادی سوال سالکم چیروو کے فل ٹینک لیول اور بفر زون کی درست حدود، سروے نمبر 62 کی اراضی کی قانونی حیثیت، سابقہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور مختلف سرکاری ریکارڈ میں سامنے آنے والے تضادات سے متعلق ہے۔
اس معاملے کی اگلی سماعت 11 اگست کو مقرر کی گئی ہے۔ اس سماعت میں متعلقہ عہدیدار اپنے جوابات پیش کریں گے، جس کے بعد عدالت سالکم چیروو کی اراضی، ایف ٹی ایل کی حد بندی اور سابقہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق معاملے کا مزید جائزہ لے گی۔
واضح رہے کہ فاطمہ اویسی ایجوکیشنل کیمپس، متعلقہ ٹرسٹ یا سرکاری عہدیداروں کے خلاف عائد کیے گئے الزامات پر ابھی کوئی حتمی عدالتی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ حکومت کا یہ موقف بھی عدالت کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ تعلیمی ادارہ ایف ٹی ایل کے اندر نہیں ہے۔ لہٰذا معاملے کی حتمی صورتحال عدالت کی آئندہ کارروائی اور متعلقہ عہدیداروں کے جوابات کے بعد ہی واضح ہوگی۔