جدیدیت کے خاندانی اقدار پر اثرات — حسینی علم ویمنز کالج میں اہم مباحثہ، ماہرین کی متوازن رائے
پروگرام کے آغاز میں ڈاکٹر پی۔ لاتا، صدر شعبۂ باٹنی و اکیڈمک کوآرڈینیٹر نے کالج کی تعلیمی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی۔ اس کے بعد ڈاکٹر محمد غوث، صدر شعبۂ سیاسیات و کنوینر نے موضوع کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جدیدیت کے اثرات خاندانی نظام پر مثبت اور منفی دونوں انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔
حیدرآباد: حیدرآباد کے Hussaini Alam میں واقع Government Degree College for Women Hussaini Alam کے شعبۂ سیاسیات کے زیرِ اہتمام “جدیدیت کے خاندانی اقدار پر اثرات” کے عنوان پر ایک اہم پینل مباحثہ منعقد کیا گیا۔
اس پروگرام کی صدارت کالج کی پرنسپل پروفیسر ایپا چینما نے کی، جبکہ پروفیسر پی۔ ایچ۔ محمد، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسس، Maulana Azad National Urdu University نے صدارتی خطاب پیش کیا۔
پروگرام کے آغاز میں ڈاکٹر پی۔ لاتا، صدر شعبۂ باٹنی و اکیڈمک کوآرڈینیٹر نے کالج کی تعلیمی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی۔ اس کے بعد ڈاکٹر محمد غوث، صدر شعبۂ سیاسیات و کنوینر نے موضوع کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جدیدیت کے اثرات خاندانی نظام پر مثبت اور منفی دونوں انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔
مہمانِ خصوصی محترمہ ثمینہ بیگم، سابق کارپوریٹر و سماجی کارکن نے لڑکیوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی بہتر تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اچھی تربیت سے گھریلو زندگی کو تنازعات سے بچایا جا سکتا ہے۔
مہمانانِ اعزازی میں مولانا ڈاکٹر احسن الحمومی، امام و خطیب شاہی مسجد باغ عامہ، اور ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد، سابق اسوسی ایٹ پروفیسر سیاسیات شامل تھے۔
ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد نے اپنے خطاب میں کہا کہ جدیدیت دراصل مغربی تہذیب کی عکاس ہے، جو خاندانی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مغربی طرزِ زندگی کی اندھی تقلید ہمارے معاشرتی اقدار کو کمزور کر سکتی ہے۔
مولانا ڈاکٹر احسن الحمومی نے موبائل فون کے بے جا استعمال کو خاندانی نظام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے والدین کو نصیحت کی کہ وہ بچوں کو وقت دیں اور ان کی رہنمائی کریں۔
پروفیسر مولانا محمد ذوالفقار محی الدین، صدر شعبۂ عربی نے اسلامی تعلیمات پر عمل کو خاندانی نظام کے استحکام کے لیے ضروری قرار دیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر پی۔ ایچ۔ محمد نے کہا کہ جدیدیت کے مثبت پہلوؤں کو اپنانا چاہیے، تاہم اس کے منفی اثرات سے بچنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ خاندانی نظام کے خاتمے سے رشتوں میں محبت اور خلوص کم ہوتا جا رہا ہے۔
پروگرام کے اختتام پر مہمانوں کا استقبال ڈاکٹر فرحانہ سلطانہ نے کیا، جبکہ اظہارِ تشکر مسز آر۔ شرشتہ نے پیش کیا۔
اس موقع پر مختلف شعبوں کے اساتذہ، طالبات اور شہر کی معزز شخصیات کی بڑی تعداد موجود رہی۔ تقریب میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات کو انعامات سے بھی نوازا گیا، جس کا مقصد تعلیمی مسابقت کو فروغ دینا تھا۔