بھارتسوشیل میڈیا

مغربی ایشیا میں کشیدگی کا اثر، ہندوستان میں اب الیکٹرانکس اشیا بھی مہنگی ہوجائیں گی

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافہ اور روپے کی قدر میں تاریخی کمی کے باعث انہیں قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ عالمی سطح کے بڑے برانڈز جیسے Vivo، Oppo، Samsung اور Xiaomi نے بھی اپنے مختلف ماڈلز کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد تک اضافے کے اشارے دے دیے ہیں۔

حیدرآباد: مغربی ایشیا میں جاری کشیدہ حالات کا اثر اب بھارت کی الیکٹرانکس مارکیٹ پر واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ حال ہی میں جی ایس ٹی میں کمی کے بعد جہاں صارفین کو کچھ حد تک راحت ملی تھی، وہیں موجودہ جنگی حالات نے مارکیٹ کو ایک نیا جھٹکا دے دیا ہے۔

 ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں الیکٹرانک مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، انٹری لیول الیکٹرانکس مصنوعات سمیت تقریباً تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہونے والا ہے۔ خاص طور پر اسمارٹ فونز، ٹی وی، ایئر کنڈیشنرز (اے سی) اور واشنگ مشینوں کی قیمتیں 10 فیصد سے زائد بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے عام صارفین کی جیب پر براہِ راست اثر پڑے گا۔

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافہ اور روپے کی قدر میں تاریخی کمی کے باعث انہیں قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ عالمی سطح کے بڑے برانڈز جیسے Vivo، Oppo، Samsung اور Xiaomi نے بھی اپنے مختلف ماڈلز کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد تک اضافے کے اشارے دے دیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، ایک بار پھر انٹری لیول الیکٹرانکس مصنوعات کی قیمتیں 6 سے 8 سال پہلے کی سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔

ایک دہائی قبل اسمارٹ فونز اور دیگر آلات کافی مہنگے ہوا کرتے تھے، تاہم بعد ازاں ٹیکنالوجی میں ترقی اور حکومتی پی ایل آئی اسکیم کے باعث ان کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔ اب حالات ایک بار پھر اسی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔

آئندہ مہینے قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور کمپنیوں کے لیے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔

مزید برآں، اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آئندہ جون تک 5جی انٹری لیول اسمارٹ فون کی قیمت تقریباً 20 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں الیکٹرانکس انڈسٹری شدید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ مستقبل میں کیش بیک آفرز اور دیگر رعایتی اسکیموں میں بھی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔