حیدرآباد

حیدرآبادمیں آشاورکرس نے کمشنرمحکمہ صحت کے دفتر کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی۔کئی گرفتار

کوٹھی میں کمشنرمحکمہ صحت کے دفتر کا محاصرہ کرنے کی آشاورکرس نے کوشش کی۔احتجاج کے دوران سینکڑوں آشا ورکرس نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور ان کے دیرینہ مطالبات کو نظر انداز کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

حیدرآباد: شہرحیدرآباد میں آشا ورکرس نے اپنی تنخواہوں میں اضافہ اور ملازمت کی طمانیت کے مطالبہ پر احتجاج کیاجس سے کشیدگی پھیل گئی۔

متعلقہ خبریں
جعلی جنرل انشورنس پالیسی کا ریاکٹ بے نقاب، 3 ملزمین گرفتار
نمائش سوسائٹی تعلیم و ثقافت کے فروغ میں سرگرم، عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی

کوٹھی میں کمشنرمحکمہ صحت کے دفتر کا محاصرہ کرنے کی آشاورکرس نے کوشش کی۔احتجاج کے دوران سینکڑوں آشا ورکرس نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور ان کے دیرینہ مطالبات کو نظر انداز کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

پولیس نے احتجاجی آشاورکرس کو روک کر حراست میں لے لیا۔اس موقع پر پولیس اورآشاورکرس کے درمیان بحث وتکرار بھی ہوئی۔احتجاج کرنے والی خواتین کا کہنا تھا کہ وہ کم تنخواہوں، سہولتوں کی عدم فراہمی اور ملازمت کے غیر یقینی حالات سے تنگ آ چکی ہیں، حالانکہ وہ بنیادی سطح پر صحت کی خدمات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

احتجاج کے دوران آشا ورکرس نے پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے اور حکومت پرفوری مطالبات کی تکمیل پرزوردیا، پولیس نے صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے کئی آشا ورکرس کو حراست میں لے لیا۔

آشا ورکرس یونین کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات، بشمول تنخواہوں میں اضافہ، ملازمت کی مستقل حیثیت، اور اضافی مراعات، کو پورا نہیں کرتی، تب تک احتجاج جاری رہے گا۔