حیدرآباد

جامعہ راحتِ عالم عنبرپیٹ میں یومِ آزادی تقریب، خواتین مجاہدینِ آزادی کی خدمات کو خراجِ عقیدت

ڈاکٹر رفعت سیما نے خاص طور پر خواتین مجاہدینِ آزادی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آزادی کی تحریک میں خواتین نے بھی مردوں کے شانہ بشانہ اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بیگم حضرت محل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نواب واجد علی شاہ کو جلا وطن کیے جانے کے بعد بیگم حضرت محل نے حکومت کی ذمہ داری سنبھالی اور میدانِ جنگ میں بھی اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا۔

حیدرآباد: جامعہ راحتِ عالم، عنبرپیٹ میں یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی اور خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں ملک کی آزادی کے لیے مسلمانوں، مدارس کے فارغین اور خواتین مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں اور خدمات کو اجاگر کیا گیا۔

تقریب کی صدارت ڈاکٹر رفعت سیما صاحبہ نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ ملک کو آزادی حاصل ہوئے 79 سال مکمل ہوچکے ہیں اور اب آزادی کے 80ویں سال کا آغاز ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ہمیں ان تمام مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے ملک کو غلامی سے آزاد کرانے کے لیے جدوجہد کی۔

ڈاکٹر رفعت سیما نے خاص طور پر خواتین مجاہدینِ آزادی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آزادی کی تحریک میں خواتین نے بھی مردوں کے شانہ بشانہ اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بیگم حضرت محل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نواب واجد علی شاہ کو جلا وطن کیے جانے کے بعد بیگم حضرت محل نے حکومت کی ذمہ داری سنبھالی اور میدانِ جنگ میں بھی اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی والدہ بی اماں، جن کا اصل نام واجدی بیگم تھا، کی خدمات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی اماں نے ملک بھر میں آزادی کی جدوجہد کے لیے لوگوں میں نیا جوش اور جذبہ پیدا کیا۔ اسی طرح مولانا محمد علی جوہر کی اہلیہ امجدی بیگم نے بھی آزادی کی تحریک کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر رفعت سیما نے مولانا حسرت موہانی کی اہلیہ نشاط بیگم کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے انگریزی عدالتوں میں اپنے شوہر کی قانونی پیروی کی۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی اہلیہ زلیخا بیگم نے بھی شوہر کی گرفتاری کے بعد بنگال خلافت کمیٹی کے کاموں کی ذمہ داری سنبھالی اور تحریک کو جاری رکھا۔

انہوں نے کہا کہ ان خواتین نے اپنے دور کی ذمہ داریاں نہایت حوصلے اور عزم کے ساتھ نبھائیں۔ آج کی خواتین کو بھی اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو ملک اور قوم کی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور موجودہ دور کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

پروگرام کے آغاز میں عالمہ اور انجینئر سیدہ صدف نے آزادی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام انسان کو انسانی غلامی سے آزاد کرکے صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کا درس دیتا ہے، اس لیے ایک مسلمان آزادی کی قدر و قیمت کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔

اس موقع پر عظمیٰ مہک، خدیجہ، سمیہ اور عائشہ نے حب الوطنی پر مبنی نظمیں پیش کیں۔ طالبات اقصیٰ اور افشاں نے مجاہدینِ آزادی مولانا شوکت علی اور مولانا اشفاق اللہ کی خدمات پر روشنی ڈالی۔

تقریب کے اختتام پر ملک کی خوشحالی، امن و سلامتی اور ترقی کے لیے دعا کی گئی۔ اس موقع پر ایک ایسے پرامن ملک کے قیام کی دعا کی گئی جو تعصب، نفرت اور فرقہ واریت سے پاک ہو اور جہاں تمام شہری باہمی بھائی چارے کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔