مشرق وسطیٰ

معاہدے کے قریب پہنچ کر ایران کو سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑا: عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایران ایم او یو پر دستخط کے قریب پہنچ چکا تھا، تاہم اسے ’’سخت ترین مطالبات، بدلتے ہوئے اہداف اور ناکہ بندی‘‘ کا سامنا کرنا پڑا۔

نئی دہلی: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایران ایم او یو پر دستخط کے قریب پہنچ چکا تھا، تاہم اسے ’’سخت ترین مطالبات، بدلتے ہوئے اہداف اور ناکہ بندی‘‘ کا سامنا کرنا پڑا۔

متعلقہ خبریں
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کردیا
وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کرنے والا ملزم کول ایلن عدالت میں پیش
ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے ‘بے مثال مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات کا دعوی


عباس عراقچی نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’’کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔

خیر سگالی سے خیر سگالی جنم لیتی ہے اور دشمنی سے دشمنی۔‘‘ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے ان مذاکرات میں ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کی، تاہم "اسلام آباد ایم او یو” کے قریب پہنچنے پر امریکی جانب سے سخت شرائط اور ناکہ بندی کے اعلان کا سامنا کرنا پڑا۔


واضح رہے کہ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی بحری ناکہ بندی کا حکم دیا ہے۔