’ایران نے صدر ٹرمپ کے قتل کا نیا منصوبہ بنا لیا‘ وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ
اسرائیل کی طرف سے فراہم کردہ ان معلومات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود شدید کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ انٹیلی جنس معلومات ایک ایسے وقت میں امریکہ کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں جب امریکہ نے آبنائے ہرمز میں حملوں کے ذریعے ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم تیز کر دی ہے، جبکہ بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان بھی کیا تھا۔
واشنگٹن: امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی ایک نئی سازش تیار کی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ ایسی خفیہ انٹیلی جنس معلومات شیئر کی ہیں جن کے مطابق ایران نے صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی نئی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔
اسرائیل کی طرف سے فراہم کردہ ان معلومات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود شدید کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ انٹیلی جنس معلومات ایک ایسے وقت میں امریکہ کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں جب امریکہ نے آبنائے ہرمز میں حملوں کے ذریعے ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم تیز کر دی ہے، جبکہ بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان بھی کیا تھا۔
ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر صدارتی طیارے ‘ایئرفورس ون’ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران والے سچ پوچھیں تو پاگل ہو چکے ہیں، وہ کچھ حد تک قابو سے باہر ہیں لیکن وہ شدت سے کوئی ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔
ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر صدر ٹرمپ ترکیہ سے امریکہ واپسی کے سفر کے دوران قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے ایئرفورس ون طیارے کو چھوڑ کر اپنے پرانے طیارے میں منتقل ہو گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی انتہائی احتیاط اور سیکیورٹی اقدامات کے پیش نظر کی گئی تھی۔ طیارے میں منتقلی سے متعلق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مجھے ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے، میں ان (ایران) کی ہٹ لسٹ پر پہلے نمبر پر ہوں‘۔
دورانِ پرواز صحافیوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ انہیں سفر کے ایک حصے کے دوران طیارے کی کھڑکیوں کے پردے بند کرنے کا کیوں کہا گیا؟ جس پر صدر ٹرمپ نے جواب دیتے ہوئے اشارہ دیا کہ یہ پرواز ممکنہ طور پر "خطرناک” ہو سکتی تھی۔