امریکہ ایران معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان پر اسرائیل وحشیانہ بمباری جاری
تفصیلات کے مطابق عالمی سطح پر ہونے والے جنگ بندی کے تمام تر دعووں اور معاہدوں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اسرائیلی فوج کی غزہ اور لبنان میں کارروائیاں جاری ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بیروت اور شمالی غزہ میں نئی بمباری کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں نے اشتعال انگیزی کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔
بیروت: امریکہ ایران معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان پر اسرائیل کے خوفناک حملے جاری ہیں، جس سے 3 افراد موقع پر ہی شہید اور 15 شدید زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی سطح پر ہونے والے جنگ بندی کے تمام تر دعووں اور معاہدوں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اسرائیلی فوج کی غزہ اور لبنان میں کارروائیاں جاری ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بیروت اور شمالی غزہ میں نئی بمباری کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں نے اشتعال انگیزی کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک رہائشی عمارت پر گائیڈڈ میزائلوں سے حملہ کیا۔ اس ہولناک حملے کے نتیجے میں عمارت زمین بوس ہو گئی، جس سے 3 افراد موقع پر ہی شہید اور 15 شدید زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے زخمیوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کیا، جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نے کفرتبنیت اور نبطیہ الفوقا کےقصبوں پر شیلنگ کی اور ایک گاڑی کونشانہ بنایا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کو ایک بار پھر نشانہ بنایا، جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر کیے گئے ایک فضائی حملے میں مزید 6 نہتے فلسطینی شہید ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق پناہ گزین کیمپ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہاں لوگ خوراک اور پناہ کی تلاش میں موجود تھے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے رام اللہ کے مشرق میں اسرائیلی آباد کاروں نے مسلح ہو کر فلسطینی آبادیوں پر دھاوا بول دیا ، انتہا پسند آباد کاروں نے فلسطینیوں کے گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی جبکہ علاقے کی ایک مقامی مسجد پر حملہ کر کے اسے شہید کر دیا گیا۔ ظلم کی انتہا کرتے ہوئے ایک معمر اور بوڑھے فلسطینی شہری پر پیٹرول چھڑک کر اسے زندہ جلانے کی کوشش کی گئی۔
اس کے علاوہ، ‘دیر دبوان’ کے علاقے میں بھی فلسطینیوں کی متعدد گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئیں، جس سے پورے علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔
فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا، امریکا کی معروف اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں گریجویشن کی سالانہ تقریب اس وقت ہنگامہ آرائی کا شکار ہو گئی۔ جب طلبہ نے مہمانِ خصوصی اور گوگل کے سی ای او سندر پچائی کی تقریر کا بائیکاٹ کردیا۔ جیسے ہی سندر پچائی اسٹیج پر آئے، طلبہ نے "آزاد فلسطین” کے فلک شگاف نعرے لگائے اور احتجاجاً ہال سے واک آؤٹ کر گئے۔
یورپ میں بھی فلسطینی بچوں سے یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ نیدرلینڈز کے مشہور ‘ڈچ اسکوائر’ پر سماجی کارکنوں اور شہریوں نے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے معصوم فلسطینی بچوں کی یاد میں ہزاروں علامتی جوتے رکھ کر احتجاج ریکارڈ کروایا۔