قومی

اسرو نے زیادہ تھرسٹ لیول پر سیمی کرائیوجینک انجن پاور ہیڈ ٹیسٹ آرٹیکل کا ہاٹ ٹیسٹ کیا

ٹیسٹ توقعات کے مطابق ہوا اور انجن کے تمام پیرامیٹرز بھی طے شدہ معیار کے مطابق رہے۔ اس ٹیسٹ سے 200 ٹن (100 فیصد) تھرسٹ لیول پر انجن پاور ہیڈ کی مستحکم کارکردگی کے بارے میں اعتماد حاصل ہوا ہے، جو سیمی کرائیوجینک انجن کی مقامی سطح پر تیاری کے سلسلے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

چنئی: انڈین خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) نے زیادہ سے زیادہ تھرسٹ لیول پر سیمی کرائیوجینک انجن پاور ہیڈ ٹیسٹ آرٹیکل (پی ایچ ٹی اے) کا ہاٹ ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کیا۔


اسرو نے ہفتہ کو بتایا کہ پی ایچ ٹی اے کا استعمال کرتے ہوئے یہ آٹھواں ہاٹ ٹیسٹ 24 جون 2026 کو تمل ناڈو کے مہندرگیری میں واقع اسرو پروپلشن کمپلیکس (آئی پی آرسی) میں 175 ٹن کے تھرسٹ لیول پر انجام دیا گیا۔


پی ایچ ٹی اے میں تھرسٹ چیمبر کے علاوہ انجن کے تمام سسٹم شامل ہوتے ہیں۔ اس ٹیسٹ کے مقاصد میں پری برنر اگنیشن کے بعد دباؤ میں اضافے کا مطالعہ اور زیادہ تھرسٹ لیول پرمستحکم آپریشن کا مظاہرہ شامل تھا۔


اس سے قبل پی ایچ ٹی اے کے ٹیسٹ 47 فیصد (94 ٹن) اور 60 فیصد (120 ٹن) تھرسٹ لیول پر کیے جا چکے تھے۔ اس ٹیسٹ میں پی ایچ ٹی اے کو پہلی بار 175 ٹن تھرسٹ لیول (88 فیصد) پر ٹیسٹ کیا گیا اور400 و 500 بار آؤٹ لیٹ پریشر دینے والے مین ٹربو پمپ کے کامیاب آپریشن کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔


ٹیسٹ توقعات کے مطابق ہوا اور انجن کے تمام پیرامیٹرز بھی طے شدہ معیار کے مطابق رہے۔ اس ٹیسٹ سے 200 ٹن (100 فیصد) تھرسٹ لیول پر انجن پاور ہیڈ کی مستحکم کارکردگی کے بارے میں اعتماد حاصل ہوا ہے، جو سیمی کرائیوجینک انجن کی مقامی سطح پر تیاری کے سلسلے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔


2000 کے این کلاس ایس ای2000 انجن سے چلنے والے سیمی کرائیوجینک پروپلشن اسٹیج (ایس سی120) ایل وی ایم3 لانچ وہیکل کے موجودہ ایل110 کور اسٹیج کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس اسٹریٹجک اپ گریڈ سے پے لوڈ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری کی توقع ہے۔


سیمی کرائیوجینک نظام صاف ستھرے اور غیر زہریلے پروپیلنٹس استعمال کرتا ہے، جو روایتی پروپلشن مراحل کے مقابلے میں بہتر کارکردگی فراہم کرتے ہیں۔
سیمی کرائیوجینک پروپلشن سسٹم کو اپگریڈ کئے گئے کرائیوجینک اپر اسٹیج کے ساتھ جوڑنے سے ایل وی ایم 3 کی پے لوڈ صلاحیت بڑھانے کی سمت میں اسرو کے روڈ میپ میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔