کرناٹک

جناردھن ریڈی کی بغیر کسی شرط کے بی جے پی میں واپسی

کرناٹک کے معروف کان کنی تاجر اور راجیہ پرگتی پکشا کے واحد ایم ایل اے جی جناردھن ریڈی نے اپنی اہلیہ ارونا لکشمی کے ساتھ دوبارہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرلی۔

بنگلورو: کرناٹک کے معروف کان کنی تاجر اور راجیہ پرگتی پکشا کے واحد ایم ایل اے جی جناردھن ریڈی نے اپنی اہلیہ ارونا لکشمی کے ساتھ دوبارہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرلی۔

متعلقہ خبریں
آخر پاکستان پر بات کیوں ہورہی ہے جب انتخابات ہندوستان میں ہورہے ہیں:پرینکا
کمیشن نے چامراج نگر سیٹ پر دیا دوبارہ پولنگ کا حکم
میں نے حکمت عملی کے تحت لوک سبھا الیکشن نہیں لڑا: پرینکا کا انٹرویو (ویڈیو)
بی جے پی اور کانگریس دونوں ریزرویشن مخالف : مایاوتی
بی جے پی جیتنے پر ریزرویشن ختم کر دے گی: اے اے پی

اس اقدام کا اعلان پیر کو یہاں بی جے پی لیڈروں بی ایس یدیورپا اور وجئیندر یدیورپا کی موجودگی میں کیا گیا، جس میں ریڈی کی بی جے پی میں واپسی کی نشاندہی کی گئی۔

بغیر کسی شرط یا عہدے کی توقع کے پارٹی میں شامل ہونے کے اپنے فیصلے پر زور دیتے ہوئے مسٹر ریڈی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا۔

مسٹر ریڈی نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا، ”آج میں نے اپنی پارٹی کو بی جے پی میں ضم کرکے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ میں بہت خوش ہوں کہ میں تیسری بار مسٹر مودی کی حمایت کرنے اپنے گھر واپس آیا ہوں۔ میں بغیر کسی شرط کے پارٹی میں شامل ہوا۔ مجھے کسی عہدے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

مسٹر یدی یورپا نے مسٹر ریڈی کے فیصلے کی ستائش کی اور اسے ایک ایسا اقدام قرار دیا جس سے بی جے پی کی طاقت میں اضافہ ہوگا اور کرناٹک میں آئندہ لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی کارکردگی میں ممکنہ طور پر اضافہ ہوگا۔ بی جے پی کا مقصد ریاست کی تمام 28 لوک سبھا سیٹیں حاصل کرنا ہے۔

قبل ازیں مسٹر ریڈی نے کرناٹک راجیہ پرگتی پکش کی بنیاد رکھی تھی اور ریاستی انتخابات میں گنگاوتی اسمبلی سیٹ جیتی تھی۔ کان کنی گھپلہ سے متعلق قانونی پریشانیوں کا سامنا کرنے سے پہلے وہ مسٹر یدیورپا کی قیادت والی بی جے پی حکومت میں وزیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

آئندہ 26 اپریل اور 7 مئی کو دو مرحلوں میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات اور 4 جون کو ووٹوں کی گنتی کے ساتھ مسٹر ریڈی کی اپنی اہلیہ اور ساتھیوں کے ساتھ بی جے پی میں داخلہ کو کرناٹک میں پارٹی کے لیے ایک اہم انتخابی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔