تلنگانہ

کشن ریڈی نے ریونت سے ایس سی سی ایل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرانے کی اپیل کی

کشن ریڈی نے اپنے خط میں میڈیا رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ تقریباً 40 لاکھ ٹن کوئلہ، جس کی مالیت لگ بھگ 1600 کروڑ روپے ہے، غائب ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سنگرینی پہلے ہی تلنگانہ حکومت پر 51,500 کروڑ روپے سے زائد کے واجبات کی وجہ سے مالی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

حیدرآباد: کوئلہ و کان کنی کے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے تلنگانہ کے وزیرِ اعلیٰ اے ریونت ریڈی کو ایک خط لکھ کر سرکاری کمپنی سنگرینی کولیریز کمپنی لمیٹڈ (ایس سی سی ایل) میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جامع تحقیقات کرانے کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ خبریں
شعبہ معدنیات میں مزید اصلاحات، پالیسی ساز فیصلے متوقع : کشن ریڈی
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
سنگارینی کا 9ماہ میں 23ہزار کروڑ کا کاروبار
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور


کشن ریڈی نے اپنے خط میں میڈیا رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ تقریباً 40 لاکھ ٹن کوئلہ، جس کی مالیت لگ بھگ 1600 کروڑ روپے ہے، غائب ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سنگرینی پہلے ہی تلنگانہ حکومت پر 51,500 کروڑ روپے سے زائد کے واجبات کی وجہ سے مالی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔


مرکزی وزیر نے وزیرِ اعلیٰ سے الزامات کی تصدیق کرانے، مکمل تحقیقات کرانے اور موجودہ حفاظتی اقدامات اور اندرونی کنٹرول کے نظام کی مؤثریت کا جائزہ لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے شفافیت، کارکردگی اور ذمہ داری کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام اور وقتاً فوقتاً جائزے کے طریقۂ کار کو اپنانے کی بھی وکالت کی۔


مسٹر کشن ریڈی نے تلنگانہ کی معیشت اور ہندستان کی توانائی سلامتی میں سنگرینی کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بروقت کارروائی سے کمپنی، اس کے 40 ہزار ملازمین اور ان کے خاندانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مدد ملے گی، نیز اس کی طویل مدتی ترقی اور استحکام کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔