کھیل

کے کے آر نے گجرات ٹائٹنز کو دیا زور کا دھچکا

کے کے آر نے ایڈن گارڈنز میں دو وکٹ پر 247 رن کا بڑا اسکور بنایا اور پھر گجرات کے چیلنج کو چار وکٹ پر 218 رن پر روک دیا۔ اس ہار کے بعد گجرات 13 میچوں میں پانچویں ہار اور 16 پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل میں اپنے دوسرے مقام پر برقرار ہے۔ کے کے آر کی 12 میچوں میں یہ پانچویں جیت ہے اور وہ 11 پوائنٹس کے ساتھ چھٹے مقام پر آ گیا ہے۔

کولکاتا: فن ایلن (93)، انگ کرش رگھوونشی (ناٹ آوٹ 82) اور کیمرون گرین (ناٹ آؤٹ 52) کی آتشیں نصف سنچریوں کی بدولت کولکاتا نائٹ رائڈرز نے گجرات ٹائٹنز کو ہفتہ کو آئی پی ایل مقابلے میں 29 رن سے ہرا کر زور کا دھچکا دے دیا۔

کے کے آر نے ایڈن گارڈنز میں دو وکٹ پر 247 رن کا بڑا اسکور بنایا اور پھر گجرات کے چیلنج کو چار وکٹ پر 218 رن پر روک دیا۔ اس ہار کے بعد گجرات 13 میچوں میں پانچویں ہار اور 16 پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل میں اپنے دوسرے مقام پر برقرار ہے۔ کے کے آر کی 12 میچوں میں یہ پانچویں جیت ہے اور وہ 11 پوائنٹس کے ساتھ چھٹے مقام پر آ گیا ہے۔


کے کے آر نے جب 247 رن بنا لیے تھے، تبھی لگ گیا تھا کہ جی ٹی کے لحاظ سے یہ کافی بڑا اسکور ہے۔ حالانکہ شبھمن گل، جوس بٹلر اور سائی سدرشن نے جم کر مقابلہ کیا۔ گل نے 85، سدرشن نے ناباٹ 53 اور بٹلر نے 57 رن بنائے لیکن ٹیم کو جیت نہیں دلا سکے۔
گجرات نے فن ایلن کا کیچ دو بار ڈراپ کیا تھا، جو انہیں مہنگا پڑ گیا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان چھکے لگانے کا فرق بھی صاف رہا۔ کے کے آر نے 22 چھکے لگائے اور جی ٹی 12 ہی چھکے لگا سکی۔ جی ٹی لگاتار پانچ میچ جیت کر آ رہی تھی لیکن کے کے آر نے ان کے اس کامیابی کے سفر کو روک دیا ہے۔

اب جی ٹی کا ایک میچ بچا ہے اور 18 پوائنٹس تک پہنچنے کے لیے انہیں اس میچ کو جیتنا ہوگا۔ وہیں کے کے آر کے 12 میچ میں 11 پوائنٹس ہو گئے ہیں۔ اگر وہ اپنے بچے ہوئے دونوں میچ جیت لیتے ہیں تو پھر ان کے 15 پوائنٹس ہو جائیں گے۔ ایسے میں کے کے آر کے امکانات ابھی بھی زندہ ہیں۔


اس سے پہلے گجرات نے جب ٹاس جیت کر کے کے آر کو بلے بازی کی دعوت دی تھی، تب انہیں شاید امید نہیں رہی ہوگی کہ کے کے آر کے بلے باز ان کے گیند بازوں کا یہ حال کریں گے۔ سراج نے اپنے اسپیل میں 50 اور راشد خان نے 57 رن دے دیے۔

ربادا اور ہولڈر نے بھی 10 کے رن ریٹ سے رن دیے۔ حالانکہ اس میں غلطی خود جی ٹی کی ہے، جنہوں نے تین چار کیچ ڈراپ کیے۔ ہولڈر سے ایلن کا مشکل کیچ ڈراپ ہوا تھا لیکن سراج نے تو بے حد آسان سا کیچ ایلن کا ڈراپ کیا تھا۔ اس وقت وہ صرف 33 رن پر تھے۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایلن نے 35 گیندوں پر 93 رن بنا دیے۔


گرین اور رگھوونشی نے ان کے آؤٹ ہونے کے بعد رن کی رفتار کم نہیں ہونے دی۔ رگھوونشی نے 44 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 82 اور گرین نے 28 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 52 رن بنائے۔ کے کے آر کی اننگز میں کل 22 چھکے لگے جو آئی پی ایل تاریخ میں کسی اننگز میں دوسرے سب سے زیادہ چھکے ہیں۔


اجنکیا رہانے 14 رن بنا کر جلدی آؤٹ ہو گئے، لیکن پھر فن ایلن نے زبردست اننگز کھیلی؛ انہیں دو بار کیچ چھوٹنے پر زندگی ملی-14 اور 33 رن پراور پھر انہوں نے گجرات ٹائٹنز کو اس کی بڑی قیمت چکانی پڑی۔ جیسے جیسے گیند بازی کمزور پڑتی گئی، اس دائیں ہاتھ کے بلے باز نے صرف چھکوں میں ہی بات کی۔

ٹائٹنز نے کیچنگ اور فیلڈنگ، دونوں میں ہی ڈھیل برت کر اپنی مشکلیں اور بڑھا لیں۔ فن کے آؤٹ ہونے کے بعد، رگھوونشی نے مورچہ سنبھالا اور کیمرون گرین نے ان کا بخوبی ساتھ نبھایا، جس سے رنوں کا سلسلہ لگاتار جاری رہا۔


اس نوجوان ہندوستانی بلے باز نے اننگز کے آخر میں ٹائٹنز پر زوردار حملہ کیا اور 44 گیندوں میں ناٹ آؤٹ 82 رن بنا کر اپنے کیریئر کا بہترین اسکور بنایا، جبکہ گرین نے بھی 26 گیندوں میں اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ ٹائٹنز کی فیلڈنگ بے حد خراب رہی اور ان کی گیند بازی بھی اوسط درجے کی تھی۔


ایلن نے 35 گیندوں میں چار چوکے اور 10 چھکے اڑائے، رگھوونشی نے 44 گیندوں میں ڈپلومیٹک چار چوکے اور سات چھکے مارے جبکہ گرین نے 28 گیندوں میں تین چوکے اور چار چھکے لگائے۔