تلنگانہ کے گروکل میں مبینہ غذائی زہر خورانی انسانی حقوق کمیشن نے ازخود نوٹس لیا
ضلع انتظامیہ کے افسران نے اسپتال پہنچ کر متاثرہ طلبہ سے ملاقات کی اور ان کے والدین کو یقین دلایا کہ تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں
حیدرآباد : تلنگانہ کے ضلع ناگرکرنول کے امرآباد منڈل کے منانور گاؤں میں واقع قبائلی فلاحی لڑکوں کے گروکل (رہائشی اسکول) میں کم از کم 27 طلبہ کو ہاسٹل میں پیش کیے گئے ناشتے کے بعد مبینہ طور پر غذائی زہر خورانی کا شکار ہونے پر اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
ناشتہ کرنے کے فوراً بعد طلبہ نے پیٹ میں درد اور قے کی شکایت کی، جس کے بعد انہیں جمعرات کو علاج کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ کئی دیگر طلبہ کا علاج منانور پرائمری ہیلتھ سینٹر میں بھی کیا گیا۔
ضلع انتظامیہ کے افسران نے اسپتال پہنچ کر متاثرہ طلبہ سے ملاقات کی اور ان کے والدین کو یقین دلایا کہ تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق طلبہ کی صحت میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے اور ان میں سے بیشتر کو جلد ہی اسپتال سے چھٹی دیے جانے کی توقع ہے۔
دریں اثنا، تلنگانہ انسانی حقوق کمیشن نے جمعہ کے روز تلگو کے روزناموں ایناڈو اور نمستے تلنگانہ میں شائع ہونے والی خبروں کی بنیاد پر اس واقعے کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔
کمیشن نے ضلع ناگرکرنول کے کلکٹر کو اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ رپورٹ میں واقعے کے حالات، متاثرہ طلبہ کی موجودہ صحت کی صورتِ حال، سرکاری تحقیقات کے نتائج، خوراک اور پانی کے نمونوں کے تجزیے کی رپورٹ، ذمہ دار افراد کے خلاف کی گئی کارروائی اور آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کی مکمل تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
اس معاملے کی آئندہ سماعت 11 اگست کو مقرر کی گئی ہے۔