تلنگانہ

مختلف اقلیتی اور سماجی تنظیموں کے وفود کی محمد فہیم قریشی سے ملاقات، مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ کے اجرا کا مطالبہ

ملاقات کرنے والے وفود میں جماعت اسلامی ہند تلنگانہ کے صدر محمد اظہرالدین، تلنگانہ بار کونسل کے رکن ایڈوکیٹ ایم اے کے مقیت اور ان کی ٹیم، تحریک مسلم شبان کے صدر محمد مشتاق ملک، ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ محمد عثمان اور تلنگانہ اسٹیٹ درگاہ ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری حافظ سید کلیم اللہ حسینی المعروف کاشف پاشا شامل تھے۔

حیدرآباد: تلنگانہ مائناریٹیز ریسیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس سوسائٹی (TMREIS) کے نائب صدر و صدر محمد فہیم قریشی سے مختلف سماجی، اقلیتی اور شہری حقوق کی تنظیموں کے نمائندہ وفود نے ملاقات کرتے ہوئے موجودہ ملکی حالات، اقلیتوں کو درپیش مسائل اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

ملاقات کرنے والے وفود میں جماعت اسلامی ہند تلنگانہ کے صدر محمد اظہرالدین، تلنگانہ بار کونسل کے رکن ایڈوکیٹ ایم اے کے مقیت اور ان کی ٹیم، تحریک مسلم شبان کے صدر محمد مشتاق ملک، ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ محمد عثمان اور تلنگانہ اسٹیٹ درگاہ ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری حافظ سید کلیم اللہ حسینی المعروف کاشف پاشا شامل تھے۔

وفود نے ریاست میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران عوام کو پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے رجوع کرتے ہوئے تلنگانہ پرمننٹ ریزیڈنٹ سرٹیفکیٹ (TPRC) یا پرمننٹ نیٹیویٹی سرٹیفکیٹ، جسے عام طور پر "ملکی سرٹیفکیٹ” کہا جاتا ہے، جاری کرنے کی سفارش کی جائے۔

وفود کے مطابق روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، غریب خاندان، خواتین، بزرگ شہری، معذور افراد، غیر تعلیم یافتہ طبقے، کرایہ دار، دور دراز علاقوں کے مکین اور روزگار کی غرض سے تلنگانہ میں مقیم ہزاروں افراد انتخابی نظرثانی کے عمل میں شدید دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کے پاس صرف آدھار کارڈ موجود ہے جبکہ دیگر مطلوبہ سرکاری دستاویزات دستیاب نہیں ہیں، جس کے باعث وہ بے یقینی اور اضطراب کا شکار ہیں۔

تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بروقت اور مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو بڑی تعداد میں حقیقی اور اہل ووٹرس کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف ہونے کا امکان ہے، جس سے ان کے جمہوری اور آئینی حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تلنگانہ ڈسٹرکٹس درگاہ ایسوسی ایشن (TDDA) نے کرناٹک حکومت کے طرز پر مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ایس آئی آر کے دوران اہل ووٹرس کی شناخت میں آسانی ہوگی اور کسی بھی شہری کو ووٹ کے حق سے محروم ہونے سے بچایا جا سکے گا۔

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر)، تلنگانہ چیپٹر نے اپنی یادداشت میں ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ الیکشن کمیشن آف انڈیا سے ایس آئی آر کی مدت میں توسیع کے لیے نمائندگی کرے تاکہ عوام کو مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے مناسب وقت فراہم کیا جا سکے۔

تنظیم نے بتایا کہ گزشتہ پانچ ماہ سے عوامی بیداری، قانونی رہنمائی، رضاکارانہ خدمات اور سہولت مراکز کے ذریعے شہریوں کی مدد کی جا رہی ہے، تاہم زمینی سطح پر بزرگوں، خواتین، یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں، کرایہ داروں، تارکین وطن اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو متعدد عملی مشکلات کا سامنا ہے۔

تحریک مسلم شبان کے صدر محمد مشتاق ملک نے بھی مستقل رہائشی کارڈ جاری کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے دستاویزی پیچیدگیوں میں کمی آئے گی اور شہریوں کے لیے انتخابی عمل میں شرکت آسان ہوگی۔

اسی طرح تلنگانہ بار کونسل کے رکن ایڈوکیٹ ایم اے کے مقیت نے بھی اپنی یادداشت میں تلنگانہ پرمننٹ ریزیڈنٹ سرٹیفکیٹ (ملکی سرٹیفکیٹ) کے اجرا کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ می سیوا مراکز اور دیگر سہولت مراکز پر عوام کے غیر معمولی ہجوم، معلومات کی کمی اور دستاویزی پیچیدگیوں کے باعث بالخصوص بزرگوں، خواتین، معذور افراد اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

تمام تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت ایسا مؤثر نظام وضع کیا جائے جس سے کسی بھی حقیقی اور اہل ووٹر کا نام انتخابی فہرست سے خارج نہ ہو اور جمہوری عمل مزید مضبوط اور شفاف بنایا جا سکے۔

وفود کے خیالات اور تجاویز کو غور سے سننے کے بعد محمد فہیم قریشی نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ان تمام مطالبات اور سفارشات کو چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کریں گے اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔