مشرق وسطیٰ

محمود عباس کا دورہ جنین رفیوجی کیمپ

صدر فلسطین محمود عباس نے گزشتہ ہفتہ کے تباہ کن اسرائیلی حملہ کے مدنظر چہارشنبہ کے دن مقبوضہ مغربی کنارہ کے جنین رفیوجی کیمپ کا دورہ کیا۔ 2005 کے بعد سے اس کیمپ کا ان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

یروشلم: صدر فلسطین محمود عباس نے گزشتہ ہفتہ کے تباہ کن اسرائیلی حملہ کے مدنظر چہارشنبہ کے دن مقبوضہ مغربی کنارہ کے جنین رفیوجی کیمپ کا دورہ کیا۔ 2005 کے بعد سے اس کیمپ کا ان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

متعلقہ خبریں
اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارہ میں فلسطینی اسکول مسمار کردیا

یہ دورہ ایسے وقت ہوا ہے جب مغربی کنارہ کے فلسطینیوں میں محمود عباس اور فلسطینی اتھاریٹی سے ناراضگی بڑھتی جارہی ہے۔ 87 سالہ صدر عام طورپر عوام سے دور رہتے ہیں اور کبھی کبھار ہی اپنے رملہ ہیڈکوارٹرس سے باہر نکلتے ہیں۔ چہارشنبہ کے دن ان کا یہ دورہ قابل غور ہے۔

گزشتہ ہفتہ جنین رفیوجی کیمپ پر اسرائیل کی 2 روزہ فوجی کارروائی میں جو گزشتہ 20 برس میں مغربی کنارہ میں سب سے بڑی فوجی کارروائی تھی‘ کم ازکم 12 فلسطینی جاں بحق اور ہزاروں فلسطینی اپنے گھروں سے بھاگ کھڑے ہونے پر مجبور ہوئے تھے۔ کیمپ میں بڑی تباہی آئی تھی۔

فوجی آپریشن میں ایک اسرائیلی سپاہی بھی ہلاک ہوا تھا۔ محمود عباس چہارشنبہ کی دوپہر ایک کردنی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ جنین پہنچے۔ صدر کے قافلہ کے پیچھے بچے دوڑ رہے تھے۔ محمود عباس نے قبرستان جاکر گزشتہ ہفتہ کے شہداء کی قبروں پر پھول چڑھائے۔ انہوں نے ہجوم سے کہا کہ جنین کیمپ جدوجہد اور چیلنج کی علامت ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ اس کی تعمیرنو کا جلد آغاز ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں سبھی سے کہنا چاہوں گا کہ یہ ملک محفوظ ہے اور اتھاریٹی متحد رہے گی۔ ہم قبضہ برخاست کرائیں گے اور قابضین سے کہیں گے کہ ہمارا پیچھا چھوڑو‘ ہم یہیں رہنے والے ہیں‘ کہیں جانے والے نہیں۔ فلسطینی اتھاریٹی میں زبردست کرپشن اور آزادی کے لئے کوئی پیشرفت نہ ہونے پر محمود عباس کی قیادت نشانہ ئ تنقید بنی ہوئی ہے۔

فلسطینیوں کی صرف 17 فیصد تعداد ان کی قیادت سے مطمئن ہے اور 80 فیصد چاہتی ہے کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔ جون میں فلسطینیوں کے پبلک اوپنین میں یہ بات سامنے آئی۔ اسرائیل کے ساتھ سیکوریٹی تعاون پر فلسطینی اتھاریٹی سے عرصہ سے ناراضگی برقرار ہے۔

جنین پر حملہ نے کئی فلسطینیوں میں فلسطینی اتھاریٹی کی ساکھ مزید خراب کردی۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے جاریہ ہفتہ سی این این سے انٹرویو میں کہا تھا کہ فلسطینی اتھاریٹی‘ فلسطینیوں میں اپنی ساکھ کھوچکی ہے اور اس نے مغربی کنارہ میں انتہاپسندی کے لئے خلاء پیدا کیا ہے۔

محمود عباس کا دورہ‘ اسرائیلی وزیراعظم بن یا مین نتن یاہو کے دفتر سے جاری اس بیان کے بعد ہوا کہ ان کی حکومت‘ مغربی کنارہ میں فلسطینی اتھاریٹی کو مستحکم کرنے کے اقدامات کرے گی لیکن وضاحت نہیں کی گئی کہ کونسے اقدامات کئے جائیں گے۔