ٹرمپ کے ”سپر انٹیلی جنس” سے متعلق فرمان کے بعد مسک نے اسپیس ایکس اے آئی کا نام تبدیل کردیا
ستمبر کے اواخر میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک فرمان پر دستخط کیے تھے، جس میں مصنوعی ذہانت کا نام بدل کر سپر انٹیلی جنس کرنے اور انتظامیہ کے محکموں اور ایجنسیوں کو نئی اصطلاح استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
ماسکو: اسپیس ایکس کی ذیلی کمپنی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ادارے اسپیس ایکس اے آئی کا نام بدل کر اسپیس ایکس ایس آئی کیا جائے گا۔ اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔
ستمبر کے اواخر میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک فرمان پر دستخط کیے تھے، جس میں مصنوعی ذہانت کا نام بدل کر سپر انٹیلی جنس کرنے اور انتظامیہ کے محکموں اور ایجنسیوں کو نئی اصطلاح استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
ایک صارف کی جانب سے ایکس پر نام تبدیل کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر مسک نے کہا، ”ہاں، ہم یہ تبدیلی کریں گے۔”
وال اسٹریٹ جرنل نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ وائٹ ہاؤس ایک ایسے ورکنگ گروپ کی تشکیل کر رہا ہے، جسے 120 دن کے اندر مصنوعی ذہانت کے خطرات اور مواقع کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کرنے کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں امریکی حکومت کی ذمہ داریوں کا تعین کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس گروپ کی سربراہی قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جے کلیٹن کریں گے اور اس کا مقصد مصنوعی ذہانت کی ترقی میں امریکہ کی برتری یقینی بنانا ہے۔