کانگریس حکومت سے عوام میں بڑھتی ناراضگی، بی آر ایس کی جانب توجہ منتقل ہونے کا دعویٰ: کے سامباشیوا راؤ
سی پی آئی کے رکن اسمبلی کونینینی سامباشیوا راؤ نے تلنگانہ کی کانگریس حکومت کی کارکردگی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف عوام میں عدم اطمینان بڑھتا جا رہا ہے اور لوگوں کی توجہ دوبارہ بی آر ایس کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔
حیدرآباد: سی پی آئی کے رکن اسمبلی کونینینی سامباشیوا راؤ نے تلنگانہ کی کانگریس حکومت کی کارکردگی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف عوام میں عدم اطمینان بڑھتا جا رہا ہے اور لوگوں کی توجہ دوبارہ بی آر ایس کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔
کونینینی سامباشیوا راؤ نے حکومت میں تال میل کی کمی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور وزراء کے درمیان مناسب رابطہ اور ہم آہنگی نہیں ہے، جس کا اثر حکومتی امور پر پڑ رہا ہے۔
سی پی آئی رکن اسمبلی نے محکمہ آبپاشی کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے اور جو بجٹ دستیاب ہے، اسے بھی مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وزراء کو فنڈز جاری کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہے اور انہیں ہر معاملے کے لیے محکمہ فینانس سے اجازت لینی پڑتی ہے تو وہ اپنے محکموں کو مؤثر طریقے سے کیسے چلا سکتے ہیں۔
سامباشیوا راؤ نے مزید کہا کہ واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کے باعث ٹھیکیدار سرکاری کاموں کو انجام دینے کے لیے آگے نہیں آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق زیر التوا بلوں کی ادائیگی میں تاخیر سے ترقیاتی اور آبپاشی کے کام متاثر ہو رہے ہیں۔
سی پی آئی رکن اسمبلی کے ان بیانات سے تلنگانہ حکومت کے انتظامی امور، فنڈز کے استعمال اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے جاری بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔